ہندوستانی مسلمانوں کو کیمرہ دوبارہ سنبھالنا ہوگا

   

پروفیسر احتشام احمد خان
ہیڈ اینڈ ڈین شعبہ ترسیل عامہ و صحافت، مانو، حیدرآباد
ہندوستانی مسلمان کئی نسلوں سے ہندوستانی سنیما کے معمار رہے ۔ ہندی فلموں کی زبان خود اردو کی ادبی لطافت اور شعری حسن سے تشکیل پائی۔ نامور مکالمہ نگاروں، نغمہ نگاروں، کہانی نویسوں، موسیقاروں، اداکاروں و ہدایت کاروں نے ایک ایسی فنی روایت قائم کی جس نے ہندوستانی سنیما کو اس کی ثقافتی شناخت عطا کی۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ آج مسلم معاشرے کے بعض حلقے فلمی تعلیم اور فلم سازی کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس پر سنجیدگی اور دیانت داری سے غور کی ضرورت ہے۔ بحث کا موضوع یہ نہیں کہ فحاشی، عریانی یا غیر اخلاقی تفریح کو فروغ دیا جائے ۔ اسلام سمیت تمام مذاہب ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو بے حیائی یا اخلاقی انحطاط کو فروغ دے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خود فلم اور فلمی و ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ قابلِ اعتراض ہیں؟ کیمرہ محض ایک آلہ ہے۔ قلم کی طرح وہ جہالت بھی پھیلا سکتا ہے اور علم بھی۔ انٹرنیٹ کی طرح وہ نفرت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور تعلیم و آگہی کا بھی۔ لہٰذا اخلاقی یا غیر اخلاقی ہونا خود ذریعہ نہیں بلکہ اس کے استعمال پر منحصر ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بہت علماء، جو سنیما یا فلم سازی کی مخالفت کرتے ہیں، خود اپنی دعوتی سرگرمیوں کیلئے انہی بصری یعنی فلمی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے بیانات یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹیلی ویژن کے ذریعے لاکھوں افراد تک پہنچتے ہیں۔ اگر یہی ذرائع دینی تعلیم کیلئے جائز ہیں تو سنیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، اسکرپٹ رائٹنگ یا ڈاکیومنٹری کی تعلیم کو ناجائز کیوں سمجھا جائے؟ ۔ متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں فلم اور ٹیلی ویژن کی صنعت نہ صرف قائم ہے بلکہ کامیاب بھی ہے۔ ترکی نے ‘درِلیش: ارطغرل’اور ‘کورولوش: عثمان’ جیسے تاریخی ڈراموں کے ذریعے اسلامی تاریخ کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ ایران نے اپنے سنجیدہ، اخلاقی اور فکری سنیما کے ذریعے عالمی سطح پر غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، سعودی عرب اور کئی خلیجی ممالک اپنی تہذیب، تاریخ اور عصری زندگی کی عکاسی کرنے والی فلموں، دستاویزی فلموں اور ڈیجیٹل مواد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔پھر ہندوستانی مسلمانوں کو طاقتور ذرائع ابلاغ میں سے ایک سے خود کو کیوں دور رکھنا چاہیے؟ ۔ فلم اور سنیما کے بارے میں بھی نئے سرے سے غور کی ضرورت ہے۔فلم سازی سے مسلمانوں کی دوری کے نتائج آج پردے سیمیں پر واضح نظر آتے ہیں۔ متعدد علمی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکزی دھارے کے ہندی سنیما میں مسلمانوں کی تصویر کشی اکثر محدود اور یک رخی انداز میں کی گئی ۔ انہیں دہشت گرد، مجرم، مشتبہ شخص، سخت گیر مولوی یا حاشیے پر موجود کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ مسلمانوں کی متنوع سماجی، علمی، ثقافتی و قومی خدمات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ایڈتھ کوون یونیورسٹی (آسٹریلیا ) میں 2006 میں مکمل ہونے والے پی ایچ ڈی مقالے ‘ایبروگیٹڈآئیڈینٹیٹی:مسلم ریپریزنٹیشن اِن ہندی پاپولر سنیما (1947–2000)’ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آزادی کے بعد ہندی سنیما میں مسلمانوں کو اکثر ”دوسرا”، ولن، مشتبہ فرد یا دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا اس تحقیق کے مطابق اس طرزِ پیشکش نے مسلمانوں کی قومی شناخت اور سماجی شمولیت کے تصور کو بھی متاثر کیا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں چند فلموں نے زیادہ متوازن کردار پیش کیے ہیں لیکن مجموعی رجحان میں بنیادی تبدیلی ابھی باقی ہے۔ اگر کوئی برادری اپنی کہانیاں خود نہیں سناتی تو اس کی شناخت، تاریخ اور تصویر دوسروں کے قلم اور کیمرے سے تشکیل پاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو ایسے فلم ساز، اسکرپٹ رائٹر، سنیماٹوگرافر، ایڈیٹر ، محقق و پروڈیوسر درکار ہیں جو اخلاقیات، تاریخی دیانت داری اور فنی معیاری تخلیقات پیش کریں۔ وہ گمنام مجاہدینِ آزادی کی داستانیں محفوظ کر سکتے ہیں۔ فلمی تعلیم صرف ایک پیشہ ورانہ تربیت نہیں بلکہ ثقافتی خواندگی بھی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو فلم بنانی چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم فلم سازی سے دور رہنے کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟۔ اس ورثے کو دوبارہ حاصل کرنا نہ دین سے انحراف ہے اور نہ کسی کی نقالی بلکہ یہ تعلیم، تہذیب اور سچ پر مبنی کہانیوں میں سرمایہ کاری ہے۔