برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار غیرسفید فام وزیراعظم ۔ رشی سونک کے دادا ،دادی کا تعلق پنجاب سے تھا
لندن: ہند نژاد رشی سونک نے محض سات سال کے پارلیمانی سفر میں برطانیہ کے نئے اور پہلے غیرسفید فام وزیر اعظم بن کر آج نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سونک نے 2020 سے 2022 تک برطانیہ کی ٹریژری کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں، جسے وزیر خزانہ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے سونک 2019 سے 2020 تک ٹریژری کے چیف سکریٹری تھے ۔ 42 سالہ سونک کنزرویٹیو پارٹی کے رکن ہیں۔ وہ برطانوی وزارت عظمی کی زائد از 200 سال تاریخ میں سب سے کم عمر وزیراعظم بن رہے ہیں ۔ سونک انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والدین ہند نژاد تھے ، جو پہلے افریقہ میں مقیم رہے ۔ ان کے والدین 1990ء کی دہائی میں مشرقی افریقہ سے انگلینڈ کو منتقل ہوگئے تھے ۔ سونک نے اپنی اسکولی تعلیم ونچسٹر کالج سے حاصل کی۔ انہوں نے لنکن کالج، آکسفورڈ میں فلسفہ، سیاست اور اقتصادیات میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے فل برائٹ پروگرام کے تحت اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسٹینفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی ملاقات انفوسس کے بانی اور بزنس مین این آر نارائن مورتی کی بیٹی اکشتا مورتی سے ہوئی۔یارک شائر کے رچمنڈ سے رکن پارلیمان رشی سونک 2015 میں پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے تھے ۔ اس وقت، بریگزٹ کی حمایت کی وجہ سے پارٹی میں ان کا قد بڑھتا رہا۔ سونک اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کی حکومت میں پارلیمانی انڈر سکریٹری تھے۔ تھریسا مے کے مستعفی ہونے کے بعد سونک نے بورس جانسن کی کنزرویٹیو پارٹی لیڈر بننے کی مہم کی حمایت کی۔ جانسن کے وزیر اعظم مقرر ہونے کے بعدسونک کو ٹریژری کا چیف سکریٹری مقرر کیا گیا۔ وزیر خزانہ کی حیثیت سے سونک نے کووڈ۔ 19 وبا کے معاشی اثرات کے تناظر میں برطانیہ میں حکومت کی اقتصادی پالیسی پر نمایاں طور پر کام کیا۔5 جولائی 2022 کو سونک نے اقتصادی پالیسی کے معاملات پر جانسن کے ساتھ اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سونک کے علاوہ اُس وقت کے وزیر صحت ساجد جاوید کے بھی استعفے نے جانسن حکومت کو بحران میں ڈال دیا اور جانسن کو وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہوناپڑا۔ کئی مہینوں کے تعطل کے بعد لیزٹرس نے جانسن کی جگہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ تب رشی سونک بھی وزیراعظم کے دعویدار تھے لیکن ٹرس نے اُنھیں مسابقت میں پیچھے چھوڑا ۔ تاہم ، اندرون دو ماہ لیز ٹرس کے غیرمتوقع استعفے نے رشی سونک کو برطانیہ کے وزیراعظم بننے کا دوسرا نادر موقع فراہم کیا ۔ اور انھوں نے اپنی امیدواری کو پرزور انداز میں پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ سابق وزیراعظم جانسن بھی دوبارہ وزارت عظمیٰ سنبھالنا چاہتے تھے لیکن آج جیسے ہی اُنھوں نے مسابقت سے دستبرداری اختیار کرلی رشی سونک کا انتخاب آسان ہوگیا ۔ سونک 12 مئی 1980 کو ساؤتھمپٹن، برطانیہ میں ہندوستانی پنجابی ہندوسُنار والدین یشویر اور اوشا سونک کے ہاں پیدا ہوئے ۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ ان کے دادا ، دادی ہندوستانی ریاست پنجاب میں پیدا ہوئے تھے اور 1960 ء کی دہائی میں وہ مشرقی افریقہ سے اپنے بچوں کے ساتھ برطانیہ کو منتقل ہوئے ۔ اگست 2009 میںسونک نے ہندوستانی ارب پتی، انفوسس کے بانی، نارائن مورتی کی بیٹی اکشتا مورتی سے شادی کی۔ان دونوں کی دو بیٹیاں ہیں۔ سونک نے 2017 سے ہاؤس آف کامنس میں بھگوت گیتا پر حلف لیا تھا۔ وہ ایسٹ لندن سائنس اسکول کے گورنر بھی تھے۔