ہندوستان بھر میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ گذشہ سال بھی یہی حال رہا تھا ۔ جس وقت سے مرکز میں بی جے پی کی نریندر مودی حکومت قائم ہوئی ہے اس کے بعد سے مسلسل حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی گاؤ کشی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے انہیں مارپیٹ کی گئی ۔ کبھی گوشت منتقل کرنے کی بات کہی گئی تو کبھی جانور اور مویشی چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ کبھی کھلے میدانوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی روکنے کی کوشش کی گئی تو کبھی مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کبھی رام جنم بھومی کا مسئلہ رہا تھا تو اب گیان واپی مسجد کا مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ کہیں حجاب پہننے پر اعتراض کیا جا رہا ہے تو کہیں مدرسوں کے تعلق سے زہر افشانی کی جا رہی ہے ۔ صورتحال کو اس قدر بگاڑ دیا گیا ہے کہ سماج کے دو اہم طبقات کے مابین نفرت اور خلیج بڑھتی جا رہی ہے ۔ ان گروپس کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا جا رہے ہے اور خاص طور پر زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹو اینکرس نے تو غلامی کی سبھی حدیں پار کردی ہیں اور سماج میں زہر پھیلانے کا کاروبار پوری شدت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے ۔ ہندوستان میں جو واقعات پیش آ رہے ہیں وہ داخلی مسئلہ ضرور ہیں لیکن ان پر بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی رسوائی ہو رہی ہے ۔ ملک کی نیک نامی اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کیا جا رہا ہے ۔ بیرونی ممالک میں بھی ہندوستان کے واقعات کا تذکرہ ہونے لگا ہے اور مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ میں بھی اقلیتوں پر حملوں کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے حالات کے خراب ہونے اور بگڑنے کی پرواہ کئے بغیر جو نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اس کے نتیجہ میں ملک کی نیک نامی پرا ثر ہو رہا ہے ۔ جو عناصر اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہو رہا ہے کہ گذشتہ سات دہوں میں ملک کا جو امیج بنا تھا وہ انہوں نے چند برسوں میں اپنی جنونی کیفیت کی وجہ سے متاثر کردیا ہے ۔ وہ اپنے نفرت انگیز ایجنڈہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے اثرات کی پرواہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
جس طرح سے مخالف اقلیت سرگرمیاں ملک بھر میں عام ہوگئی ہیں وہ قابل تشویش ضرور ہیں۔ چاہے فلموں کے ذریعہ سے ہو یا پھر تقاریر کے ذریعہ سے ہوں کوئی طریقہ نہیں چھوڑا جا رہا ہے ۔ دھرم سنسد منعقد کرتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی بات کی جا رہی ہے ۔ ہندووں کو ہتھیار اٹھالینے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کئے جانے کے باوجود حکومتوں کی جانب سے ان عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ ہتھیار اٹھالینے کی ترغیب دینے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کئی ہفتوں کا وقت لگایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات بھی انتہائی معمولی دفعات کے تحت درج کرتے ہوئے ضابطہ کی تکمیل کی جا رہی ہے ۔ کہیں کوئی مسلمان اگر حکومت کے خلاف رائے کا اظہار کرتا ہے یا حکومت کے کچھ اقدامات کی مخالفت کی جاتی ہے تو ان کے خلاف ملک و قوم سے غداری کے جھوٹے کیس درج کئے جاتے ہیں اور انہیں مہینوں بلکہ برسوں جیل میں بند کردیا جاتا ہے ۔ ان کی ضمانتیں تک ہونے نہیں دی جاتیں۔ تاہم ہتھیار اٹھالینے اور ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے قتل عام بلکہ نسل کشی کی ترغیب دینے والوں کے تعلق سے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ حکومتوں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے اسی ڈوغلے پن کی وجہ سے ایسے جنونیوں کی حوصلہ افزائی ہو رہے اور وہ ایک کے بعد دیگر متنازعہ بیانات دینے میں کوئی عار یا جھجھک محسوس نہیں کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے بعد کم از کم حکومت کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے اور جو عناصر ملک میں ماحول بگاڑنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں ملک کی رسوائی نہ ہونے پائے ۔ ہندوستان کا نام متاثر نہ ہونے پائے ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا میں ہندوستان کے سی ای اوز اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں کچھ مٹھی بھر جنونیو ں کی وجہ سے ملک کا نام بدنام ہونے نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اس سے ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی اثر ہوگا ۔ ان عناصر کے خلاف بہر صورت کارروائی کی جانی چاہئے ۔