امریکی نمائندہ وفد کی محکمہ تجارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش اگروال سے ملاقات
نئی دہلی، 16 ستمبر (یو ایں آئی) ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کی سمت میں اہم پیشرفت کے تحت دونوں فریقوں کے حکام نے منگل کے روز یہاں منعقدہ میٹنگ میں تجارتی معاہدے کیلئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ بات چیت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے مقصد سے ، امریکہ کے تجارتی نمائندے کے دفتر کی ایک ٹیم نے امریکی معاون تجارتی نمائندے برینڈن لنچ کی قیادت میں یہاں محکمہ تجارت کے حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ ہندوستانی ٹیم کی قیادت محکمہ تجارت کے اسپیشل سکریٹری راجیش اگروال نے کی۔ وزارت تجارت وصنعت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، بات چیت “مثبت اور مستقبل کے حوالے سے ” تھی اور اس میں تجارتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں فریقوں کے مفاد میں تجارتی معاہدے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں تاکہ بامعنی نتائج جلد سامنے آسکیں۔ امریکہ ہندوستان کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے لیکن امریکہ کی طرف سے ہندوستانی مصنوعات پر 50 فیصد درآمداتی ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بگڑ گئے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اور بعض امریکی حکام کے سخت بیانات سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ حال ہی میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نرم رخ اور سوشل میڈیا پوسٹس اور ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حوصلہ افزا ردعمل سے تجارتی مذاکرات میں تعطل کو توڑنے کا راستہ تلاش کرنے کے امکانات بڑھے ہیں۔ تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے امید ظاہر کی ہے کہ نومبر تک ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اچھا معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان کیلئے ملک کے کسانوں، مویشی پالنے والے کسانوں، ماہی گیروں اور چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مفادات سب سے اہم ہیں اور ان سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ ہندوستان پر مکئی، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی مارکیٹ کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے ۔ ابھی دو روز قبل امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے ہندوستان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1.4 ارب کی آبادی کے باوجود ہندوستان امریکہ سے ایک اونس مکئی بھی نہیں خریدتا ہے ۔