ہندوستان اور چین سرحد پرکشیدگی کم کرنے پر متفق

,

   

۔ 5 نکاتی معاہدہ پر عمل درآمد،چین لداخ سے فوج کی واپسی کو یقینی بنائے :حکومت ہند

نئی دہلی: مشرقی لداخ میں 4 ماہ طویل فوجی تعطل کی یکسوئی کے لئے ہندوستان اور چین 5 نکاتی اتفاق رائے پر پہونچ چکے ہیں اور دونوں متفق ہیں کہ تیزی سے فوجی دستوں کو واپس طلب کرلیا جائے، ایسی کسی بھی کارروائی کو ٹالا جائے جو کشیدگی کو ہوا دے، نیز حقیقی خط قبضہ (ایل اے سی) کے پاس امن و بھائی چارہ بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ اِس معاہدہ میں بتایا گیا کہ سرحدی علاقوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، اِس کو جمعرات کی شام ماسکو میں وزیر اُمور خارجہ ایس جئے شنکر اور اُن کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان صاف صاف اور تعمیری بات چیت کے دوران قطعیت دی گئی۔ یہ میٹنگ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن میٹنگ کے موقع پر منعقد ہوئی۔ ڈھائی گھنٹے کی بات چیت کے دوران جن نکات پر اتفاق ہوا اُس کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ملکوں نے پیر کو سرحد پر فوجوں کے درمیان تازہ ٹکراؤ کے بعد تیزی سے قدم بڑھائے اور مشرقی لداخ کے تعطل کو ختم کرنے کے لئے یہ پانچ نکاتی معاہدہ عمل میں لانے کا عزم کیا ہے۔ حکومت ہند کے ذرائع نے کہاکہ موجودہ سرحدی صورتحال سے نمٹنے میں یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ دونوں فریقوں نے ہند چین سرحدی مسائل پر خصوصی نمائندوں کے سسٹم کے ذریعہ بات چیت اور ملاقات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔اِس دوران ہندوستان نے واضح طور پر چین سے مشرقی لداخ میں تمام کشیدگی والے علاقوں سے فوج کی واپسی کو یقینی بنانے کو کہا ہے جو مستقبل قریب میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے ضروری ہے ۔ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے جمعرات کے روز روس کے ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے الگ ایک ملاقات کے دوران یہ بات کہی ۔ تقریبا ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے دوران لداخ خطے میں جاری سرحدی تنازعہ کے حل کے سلسلے میں گفت و شنید کی ۔ذرائع کے مطابق میٹنگ کے دوران ہندوستان نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر سازوسامان کے ساتھ چینی فوج کی بڑے پیمانے پر موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا کہ فوج کی اتنی بڑی موجودگی 1993 اور 1996 کے معاہدوں کے عین مطابق نہیں ہے اور اس سے ایل اے سی پر فلیش پوائنٹ بنے گا۔ ذرائع نے بتایاکہ چینی فریق نے اس تعیناتی کے لئے کوئی معتبر وضاحت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل اے سی پر کشیدگی کے کئی واقعات میں چینی سرحدی فوج کے اشتعال انگیزرویے نے دوطرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کو نظرانداز کیا ہے ۔ 2017 ء میں ڈوکلم علاقہ میں بھی دونوں ملکوں میں اسی طرح فوجی تعطل رہا تھا جو 72 دن چلا۔ آخرکار وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر ژی جن پنگ کی بات چیت کے بعد مسئلہ حل ہوا تھا۔