عالمی سطح پر فاقہ کشی کے معاملے میں ہندوستان کا ریکارڈ مزید ابتر ہوگیا ہے ۔ ملک میں ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے باوجود غربت کا شکار افراد اور بھوک مری و فاقہ کشی کے معاملے میں ہندوستان 2020 میں جس مقام پر تھا 2021 میں اس سے مزید نیچے چلا گیا ہے ۔ ایک سال قبل عالمی سطح پر بھوک اور فاقہ کشی کے معاملے میںہندوستان دنیا بھر میں 94 ویں نمبر پر تھا تاہم اس سال مزید سات مقام نیچے چلا گیا ہے اور 101 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔ عالمی فاقہ کشی انڈیکس کی رپورٹ میں ہندوستان میں فاقہ کشی کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے ۔ یقینی طور پر ہندوستان جیسے تیزی سے ترقی کرنے والے ملک میں ‘ جس کو حکومت پانچ ٹریلین ڈالرس کی معیشت بنانے کے دعوے کرتے ہے ‘ اگر فاقہ کشی میںاضافہ ہوتا ہے تو یہ صورتحال تشویشناک ہی کہی جاسکتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے ملک کی ترقی اور معیشت کے مستحکم ہونے کے تعلق سے کئی دعوے کئے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار میں الٹ پھیر کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ حکومت حقیقی اعداد و شمار کو عوام کے سامنے راست پیش کرنے کی بجائے نت نئے انداز سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششوں میںلگی رہتی ہے تاہم عالمی اداروں کی رپورٹ میں صورتحال کو بہتر انداز میںپیش کیا گیا ہے ۔ گذشتہ سات سال کے دوران یہ حقیقت ہے کہ ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عوام کی ملازمتیں اور روزگار چھینے جا رہے ہیں۔ سرکاری کمپنیاں بیچی جا رہی ہیں۔ وہاں بھی ملازمتوں کی تعداد گھٹائی جا رہی ہے ۔ خانگی شعبہ میںملازمتیں مل نہیں رہی ہیں۔ مزدوروں کیلئے بھوک مری اور فاقہ کشی کی صورتحال ہی پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ اگر ملک میں کوئی ترقی ہو رہی ہے تو وہ صرف چند مٹھی بھر حاشیہ ب ردار کارپوریٹس کی ہو رہی ہے ۔ عالمی سطح پر دولتمندوں کی فہرست میںکارپوریٹس کے نام اوپر آتے جا رہے ہیں اور بھوک مری اور فاقہ کشی کے معاملے میں خود ہندوستان کا نام فہرست میں مزید نیچے چلا جا رہا ہے ۔ یہ صورتحال قابل تشویش ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت اس صورتحال کو قبول کرنے کیلئے تیار نظر نہیںآتی ۔
مرکزی حکومت کا جہاں تک سوال ہے وہ ملک کو معاشی اعتبار سے سوپر پاور بنانے کے دعوے کرتی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے جن کے ذریعہ ملک کو معاشی طور پر انتہائی مستحکم اور طاقتور بنایا جائیگا ۔ ملک کو دوسرے شعبہ جات میں بھی عالمی طاقت بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ڈیجیٹل ترقی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن جو بنیادی بات ہے اسی میںملک کا ریکارڈ ابتر ہوتا جا رہا ہے ۔ لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی تک دستیاب نہیں ہے اور کارپوریٹس ہر گھنٹے میںسینکڑوں کروڑ روپئے اپنی جیبوں میں بھر رہے ہیں۔ حکومت غریب عوام سے پٹرول و دیگر اشیا پر بھاری ٹیکس حاصل کرتے ہوئے ان ہی کارپوریٹس کو مراعات اور سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ غریبوں کی مدد کیلئے کارپوریٹس سے کچھ لینے کی بجائے غریبوں سے دو وقت کی روٹی تک چھینی جا رہی ہے اور کارپوریٹس کے خزانے بھرے جا رہے ہیں۔ درجنوں افراد ایسے ہیں جنہوں نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے اور وہ ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے بیرونی ممالک میں رکھا گیا کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا جائز پیسہ اور دولت الٹا بیرونی ممالک میں منتقل کی جا رہی ہے اور حکومت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔ الزام تو یہ بھی ہے کہ حکومت سے قربت رکھنے والے تاجروں کو پہلے تو ہزاروں کروڑ روپئے کے قرض دئے جا رہے ہیں اور پھر انہیںملک سے فرار ہونے کے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔
اب حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ جو رپورٹ عالمی فاقہ کشی انڈیکس نے تیار کی ہے اس میںغیر سائنٹفک طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ یہ در اصل حقیقت سے نظریں چرانے اور حقیقت سے انکار کرنے کے مترادف ہے ۔ ایسا کرنے کی بجائے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرو رت ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ فاقہ کشی کا شکار کوئی اور نہیں خود ہمارے اپنے ہندوستانی بھائی ہیں۔ انہیں دو وقت کی روٹی اور چین کی سانس فراہم کرنے کیلئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ملک اس وقت تک ترقی یافتہ یا عالمی طاقت نہیں بن سکتا جب تک ملک کے عوام کا پیٹ بھرا نہ ہو۔ فاقہ کشی کا خاتمہ ہی ترقی کی سمت اصل پیشرفت ہے ۔
