ہندوستان میں قانون کی حکمرانی ختم ، انسانی حقوق تباہ

,

   

مودی حکومت انسانی حقوق سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کرے ، یوروپی یونین کی ماریہ ایرینا کا بیان
مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیخلاف یوروپی یونین کا انتباہ

لندن : یوروپی یونین انسانی حقوق سب کمیٹی کی چیرپرسن ماریہ ایرینا ایم ای پی نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔ مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی پر یوروپی یونین نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کو انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ اس کے فروغ کیلئے بھی اپنے عہد کو پورا کرنا چاہئے۔ یوروپین پارلیمنٹ کی سب کمیٹی نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ماریہ ایرینا نے کہا کہ بڑی تشویش کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو رہا ہے، کیونکہ قانون کی حکمرانی ہی یورپ اور ہندوستان کے خصوصی تعلقات کی بنیاد ہے۔ہندوستان میں پسماندہ طبقات، مذہبی اقلیتیں خصوصی طور پر مسلمان، ایک مخیر اور متحرک سول سوسائٹی اور حکومتی پالیسیوں کے نقاد ایک طویل عرصے سے دباؤ میں ہیں۔ شہریت کے مجوزہ قانون کی توثیق کے معاملے پر وسیع پیمانے پر احتجاج اور شہری امتیازی قانون میں ترمیم کے نتیجے میں من مانی نظربندیاں اور غیر ضروری جانی نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح صحافیوں اور حکومت کے پرامن نقادوں کو انسداد دہشت گردی اور بغاوت کے سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے محافظوں کو حکام سخت اور بے ہنگم طریقے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماریا ایرینا نے مزید کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی طرف سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ میں فروری 2020 میں دہلی فسادات کے دوران دہلی پولیس کے ذریعے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا پردہ فاش کیا گیا تھا۔اس صورتحال میں اس تشدد کے پھوٹ پڑنے کے بعد ہندوستان ی حکام کی جانب سے جس طرح اس پر کاروائی نہیں کی گئی، اس پر بھی قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعے انسانی حقوق کی ان تمام پامالیوں کی فوری، مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پولیس پر ان پرتشدد واقعات کو روکنے کے بجائے حملہ آوروں کی مدد کرنے والے کا کردار ادا کرنے کے الزام کی بھی مکمل آزاد، عوامی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ماریہ ایرینا نے یاد دلایا کہ پولیس کی بربریت کو روکنے اور اسے کسی بھی طرح کے استثنیٰ کے حصول سے دور رکھنا دراصل معاشرے میں انصاف کے فروغ کا واحد راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی حالیہ دنوں کی انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کردیا گیا کہ وہ ہندوستان ی حکومت کی انتقامی کاروائیوں کی وجہ سے ہندوستان میں اپنا دفتر بند کرنے پر مجبور ہیں۔ یورپین پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی سب کمیٹی کی چیرپرسن نے اپنے اس اعلامیے میں ہندوستان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ایک موجودہ ممبر کی حیثیت سے ہندوستان نے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ میں “سیول سوسائٹی کی حقیقی شرکت اور موثر شمولیت کو فروغ دینے کا وعدہ کیا ہے”۔ لہٰذا میں ہندوستان ی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ اپنے اس عہد کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت گیا ہے کہ ہندوستان اپنے لفظوں کو عمل کی شکل دے اور وہ رول ماڈل بن کر دکھائے جو وہ عالمی سطح پر بننا چاہتا ہے۔ ماریا ایرینا نے اپنے اس اعلامیے میں یورپین یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بیان کردہ انسانی حقوق کے بارے میں خدشات کو یورپین یونین اور ہندوستان کے درمیان ہونے والے مکالمے کا حصہ بنائیں اور اسے حل کریں۔اعلامیے کے آخر میں ماریا ایرینا نے اپنے اس مطالبے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے اس پر فوری کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔