ایمس کے ڈائرکٹرڈاکٹررندیپ گلـیریاکاانتباہ‘کووڈقواعد پر مناسب عمل آوری پرزور
نئی دہلی :ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر دھیرے دھیرے کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن اس درمیان تیسری لہر کا خدشہ بھی بار بار ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تیسری لہر بہت قریب ہے اور ریاستوں کے کی جانب سے لاک ڈاون اور دیگر رعایتیوں میں کمی کیے جانے کے سبب لوگوں نے بداحتیاطی کی تو اس کا اثر بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلریا نے اس سلسلے میں ایک اہم بیان دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر آئندہ 6 سے 8 ہفتوں میں دستک دے سکتی ہے، اور اس سے بچنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ایک نیوز چینل سے بات چیت کے دورانہوں نے کہا کہ اَن لاک شروع ہونے کے بعد لوگوں میں لاپروائی پھر سے دکھائی دے رہی ہے۔ لوگوں نے کورونا کی پہلی اور دوسری لہر سے بھی کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ لوگوں کی بھیڑ ایک بار پھر جگہ جگہ جمع ہونے لگ گئی ہے۔ اگر ایسا ہی حال رہا تو آئندہ 6 سے 8 ہفتوں میں تیسری لہر آ سکتی ہے۔غور طلب ہے کہ حال ہی میں آئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں اندازہ کیے گئے وقت سے پہلے تیسری لہر آ سکتی ہے۔ اس بات کی جانکاری وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی طرف سے تشکیل کی گئی ایکسپرٹس کمیٹی نے دی تھی۔گلیـریا نے مزید کہا کہ قومی سطح پر لاک ڈاؤن کے ذریعہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو نہیں کیاجاسکا بلکہ اس کا ملک کی معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بجائے مخصوص مقامات پر کنٹمنٹ اقدامات کرنے چاہئے۔ جس سے کورونا وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ فیصد سے زیادہ جہاں کورونا کی مثبت شرح ہے وہاں پر لاک ڈاؤن نافذکرنا چاہئے ۔ ایمس کے ڈائرکٹر نے اس بات کو دہرایا کہ اب تک ایسی کوئی شہادت نہیں ہے جس سے یہ کہا جاسکے کہ کورونا کی آئندہ لہر میں بچے زیادہ متاثر ہوں گے ۔ انہوں نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کوویڈ قواعد پر مناسب عمل آوری پر زور دیا ۔ انہوں نے ہجوم اور بھیڑ بھاڑ پر روک لگانے کی بھی تجویز پیش کی ۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی دی جارہی ہے ۔ تاہم قواعد پر سختی سے عمل ضروری ہے ۔