پرتھ۔ یشسوی جیسوال نے شاٹ کے بہترین انتخاب کے ساتھ کے ایل راہل کے ہمراہ 172 کے ناقابل شکست پہلی وکٹ کی شراکت میں تکنیکی طور پر ناقابل تسخیر رہے جس کی بدولت ہندوستان دوسرے دن کھیل کے اختتام پر 218 رنز کی مجموعی برتری کے ساتھ آسٹریلیا کو میچ سے باہر کرنے کے تمام کام کرلئے ہیں۔ کپتان جسپریت بمراہ کے کھیل کو تبدیل کرنے والے 11 ویں پانچ وکٹوں کی بدولت آسٹریلیاکو 104 رنز پر ڈھیرکردیا جس کے بعد نوجوان جیسوال (90 رنز پر بیٹنگ، 193 گیندوں) اور تجربہ کار راہول (62 رنز پر بیٹنگ، 154 گیندوں میں ) نے انتظار کر کے کچھ پرانے طرز کے ٹسٹ میچ کی بیٹنگ کے ساتھ بہترین مظاہرہ کیا ۔ ناقص گیندوں پر رنز بنانے اور اچھی فاسٹ بولنگ کا احترام کرتے ہوئے ہندوستانی اوپنرس نے مقابلے میں اپنا موقف مستحکم کرلیاہے ۔ ہندوستانی بیٹرس نے چائے کے بعد کے سیشن کے دوران 31 اوورز میں 88 رنز بنا کر اپنا مضبوط دفاع ظاہرکیا جب جیسوال آسٹریلیائی سرزمین پر اپنی پہلی سنچری کی قریب پہنچ چکے ہیں۔اس شاندار بیٹنگ کے بعد ہندوستان نے مقابلے پر نہ صرف اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے بلکہ یہاں سے کم ازکم اسے شکست نہیں ہوگی ۔ جس طرح سے راہول نے آسٹریلیائی بولنگ حملے کا مقابلہ کیا وہ دیکھنے والا تھا۔ سلیپ کے گھیرے سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی ۔ دوسرے دن دوپہر تک پیچ کی گھاس ختم ہوئگی اور سیونگ ختم ہوگئی جس سے بیٹنگ آسان ہو گئی۔ جیسوال نے یہ بھی ظاہر کیا کہ اس نے پہلی اننگز سے اپنا سبق سیکھا ہے اور ابتدائی طور پر جارحانہ اندازکی اپنی خواہش کو روکا، جو ان کی بیٹنگ کا بہترین حصہ تھا۔ ان کے سات چوکوں اور دو چھکوں میں سے ہر ایک شاٹ اچھی طرح سے لگایا گیا۔ آخری سیشن میں انہوں نے مزید شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ۔ پیٹ کمنز پر راہول کی بیک ڈرائیوکو آسانی سے میچ کا شارٹ کہا جا سکتا ہے لیکن جیسوال کو باؤنس کے نیچے آنے اور ریمپ شاٹ کھیلنے کے علاوہ مچل اسٹارک کو کورکے ذریعے آگے بڑھاتے ہوئے دیکھ کر ہندوستانی مداحوں کو کافی خوشی ہوئی۔ جیسوال کی نصف سنچری 123 گیندوں پر بنی، جو 15 ٹسٹ میں ان کی سب سے سست تھی ۔ اسپیچ پر300 سے اوپر کے کسی بھی ہدف کا تعاقب کرنا بہت مشکل ہوگا اور اگر یہ دراڑیں کھل جاتی ہیں تو واشنگٹن سندرکھیل میں اہم نام ہوں گے ۔قبل ازیں ہندوستان نے آسٹریلیا کو 104 رنز پر ڈھیر کرتے ہوئے اننگز میں 46 رنز کی سبقت حاصل کی ۔بمراہ نے 5 وکٹیں لی۔