ہندوستان کا فائنل میں اج نیپال سے مقابلہ

   

مالے (مالدیپ) ۔ہندوستانی فٹبال ٹیم کے کپتان اور شاندارگول اسکورر سنیل چھتری نے ہفتہ کو یہاں سیف چمپئن شپ کے فائنل سے قبل کہا کہ نیپال میں مالدیپ کے علی اشفاق جیسا غیر معمولی کھلاڑی نہیں ہو سکتا لیکن عظیم ٹیم ورک کے ساتھ یہ آسان حریف نہیں ہے۔چھتری نے 13 اکتوبر کو مالدیپ کے خلاف 3-1 سے جیت میں دوگول کیے جس کی وجہ سے 16 اکتوبر کو یہاں نیپال کے خلاف فائنل میں ہندوستان کی رسائی ہوئی جبکہ اشفاق نے میزبان ٹیم کے لیے تسلی بخش گول کیا۔ چھتری نے کہا وہ (نیپال) اپنی صفوں میں علی اشفاق کی طرح غیر معمولی کھلاڑی نہیں رکھتے ہیں لیکن اس چمپئن شپ میں وہ ایک بہتر ٹیم کے طور پر ابھرے ہیں۔ہم نے ان کے خلاف ستمبر سے تین بارکھیلا ہے اور وہ بطور ٹیم انتہائی متوازن ہیں اور یہ ہمارے لئے آسان نہیں ہوگا۔ ہندوستان نے نیپال کو شکست دینے سے پہلے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف ڈرا مقابلے کھیلے پھر میزبان مالدیپ کے خلاف زبردست فتح حاصل کی۔چھتری نے کہا کہ دوگول کے بغیر ڈرا کرنے کے بعد ٹیم کا حوصلہ پست تھا اور سینئرزکو بہت زیادہ حوصلہ افزا باتیں کرنا پڑتی تھیں۔عام طور پر سینئر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ پوری صورت حال کو پرسکون کریں۔ جب آپ کے پاس بہت سے نوجوانوں کے ساتھ ایک ٹیم ہوتی ہے اور اگرموڈ اور رفتار کم ہو جاتی ہے تو وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ہیں۔ جس طرح ہم نے پہلے دو میچوں میں دو پوائنٹس کھوئے وہ مثالی آغاز نہیں تھا۔اچھی بات یہ تھی کہ (سینئرز) گورپریت ، کوتل ، بھیکے ، سبھاشیش نے جونیئرزکے ساتھ بات چیت شروع کی اور اس بات کو یقینی بنایاکہ موڈ خراب نہ ہو۔ آخرکار اس شیطانی دائرے میں داخل ہونا آسان تھا جہاں آپ ایک دوسرے پر شکوک و شبہات شروع کر سکتے تھے۔چھتری نے تسلیم کیا کہ گزشتہ چند بین الاقوامی مقابلوں کے نتائج کوششوں کے مطابق نہیں تھے۔نتائج بہت اچھے نہیں رہے اور سب سے پہلے جن کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے وہ ہم کھلاڑی ہیں۔ میں آپ کو پانچ مقابلوںکی مثالیں دے سکتا ہوں جو ہمیں اپنے نام کرنا تھا لیکن ہم ہارگئے۔ جب آپ قطر کے خلاف 0-1 سے ہارگئے۔ پھر آپ افغانستان کے خلاف برتری 1-1 سے ڈرا کرتے ہیں۔میں کسی مخالف کو کم نہیں سمجھتا لیکن ہمیں سری لنکا کے خلاف بھی جیتنا چاہیے تھا۔ ہم نے مالدیپ میں مالدیپ میں بھرے ہوئے اسٹیڈیم کے سامنے جس انداز میں کھیلا وہ آسان نہیں تھا۔