شہریت ترمیمی بل کے خلاف مظاہرہ میں عمیق جامعی کا اظہا رخیال
لکھنؤ 9ڈسمبر(سیاست ڈاٹ کام ) شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) اور مجوزہ این آر سی کی مذمت کرتے ہوئے مشہور سماج وادی لیڈر عمیق جامعی نے کہاکہ ہندوستان کبھی جناح کا ملک نہیں بن سکتا۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں ‘ناگرتابچاؤ آندولن’ کے تحت شہریت ترمیمی بل کے خلاف منعقدہ مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے ‘ناگرتا بچاؤ آندولن’ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی ہے جس کے کنوینر عمیق جامعی اور مسٹر عبدالحفیظ گاندھی اور اطہر حسین بنائے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سوامی ویویکانند نے امریکہ کے صوبے شکاگو میں کہا تھا کہ میں دنیا کے اس ملک سے آیا ہوں جس نے دنیا کے تمام لوگوں کو جگہ دی۔ انہوں نے کہاکہ اس بل سے ہندوستان کی سیکولرزم، رواداری اور مشترکہ تہذیب پر ضرب پڑے گی جس کے لئے ہندوستان پوری دنیا میں مشہور ہے ۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرعمیق جامعی نے کہا کہ سی اے بی آئین مخالف ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو موجودہ حکومت کے آئینی مخالف اقدامات کی کھل کر مخالفت کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ شہری ترمیمی بل (سی اے بی) اور این آرسی کے بارے میں شعور پیدا کرنا ضروری ہے ۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دونوں التزام ہندوستان کی شبیہ پرداغ لگائیں گے ۔ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت یہ سب کر رہی ہے ۔ یہ حکومت ہمیشہ فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرتی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو پناہ کے ساتھ ساتھ شہریت بھی ملنی چاہئے ، اگرچہ وہ مذہبی بنیاد پر ان کے اپنے ہی ممالک میں ستائے جاتے ہیں، لیکن مذہب ایسے فوائد طے کرنے کا معیار نہیں ہو سکتا۔مشہور سماجی کارکن لاء کالج کے اسسٹنٹ پروفیسرمسٹر عبد حفیظ گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مذہب کبھی بھی شہریت کی بنیاد نہیں رہا ہے ۔ حکومت کی کوشش شہریت کو مذہب مرکوز بنانے کی ہے ۔ سیکولرازم آئین کی اصل شناخت ہے ۔ اس ملک کی سیکولر روایات کی خلاف ورزی میں کوئی قانون بنا کر اس ڈھانچے کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا سی اے بی اور این آرسی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ ہمارے ملک کی روح کو بچانے کے لئے دونوں کے خلاف احتجاج کیا جانا چاہئے ۔
