برقعہ پوش بینک ٹرانزیکشن نہیں کرسکتی ؟
پٹنہ : بہار کے ضلع بیگو سرائے میں برقعہ پوش لڑکی کو نیشنلائیزڈ بینک میں ٹرانزیکشن سے روک دیا گیا ۔ اُس لڑکی نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعہ کو ریکارڈ کرلیا اور گزشتہ روز اُسے سوشیل میڈیا پر شیئر کیا۔ یہ واقعہ ہفتہ کو پیش آیا جب وہ لڑکی بیگوسرائے میں یوکو بینک منصور چوک برانچ کو پہونچی تاکہ رقم نکال سکے۔ ویڈیو کے مطابق تین یا چار بینک ملازمین لڑکی سے کہہ رہے ہیں کہ حجاب ہٹاؤ اور اُس کے بعد ہی رقم نکالنے کی اجازت دی جائے گی ۔ لڑکی نے اس پر سخت اعتراض کیا اور اپنے والدین کو بلالیا ۔ اُن سب نے ملازمین سے تحریری اعلامیہ بتانے کے لئے کہا کہ بینک کے احاطہ میں باحجاب رہنے کی اجازت نہیںہے ۔ اُس لڑکی کے والد نے ویڈیو ریکارڈنگ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بینک ملازمین کو بتایا کہ میری بیٹی اور میں ہر ماہ بینک کو آتے رہے ہیں لیکن کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا ۔ اب کیوں ایسا کیا جارہاہے ؟ اگر اس طرح کی کوئی چیز کرناٹک میں ہوئی ہے تو کیا اُس کو بہار میں دہرایا جارہا ہے؟
حجاب لازمی مذہبی عمل نہیں : حکومت
بنگلورو : کرناٹک ہائیکورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگ نوداگی نے حجاب سے متعلق جاری کیس میں استدلال پیش کیا ہے کہ اسلام میں حجاب لگانا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے ۔ اور یہ دستور کے آرٹیکل 25 (پیشہ ، عقیدہ اور مذہب کی تبلیغ کی آزادی ) کے تحت نہیں لایا جاسکتا ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گذار طالبات عدالت سے نہ صرف ہیڈاسکاف لگانے کی اجازت حاصل کرنے رجوع ہوئی ہیں بلکہ وہ اپنے مذہبی حق کے تحت کلاسوں میں بھی باحجاب ہی رہنا چاہتی ہیں ۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ کوئی گنجائش بنیادی حق نہیں ہوجاتی ۔ اس لئے آرٹیکل 25 کے تحت درخواست گذار طالبات حجاب کو اپنے بنیادی حق کے طورپر نہیں پیش کرسکتی ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہاکہ فوڈ اور ڈریس کو لازمی عنصر نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔ اور اُنھوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں مذہب کو ادارہ جات میں لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بہار کے وزیر کو مسلم آبادی پر تشویش !
پٹنہ : بہار کے وزیر زراعت امریندر پرتاب سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندو برادری کی آبادی گھٹ رہی ہے اور مسلم آبادی ریاست میں بڑھتی جارہی ہے ۔ امریندر نے ایسا قانون بنانے کا مطالبہ کیا جس کے ذریعہ ریاست میں آبادی پر قابو پایا جاسکے ۔ نتیش کمار حکومت میں بی جے پی کوٹہ کے تحت شامل وزیر زراعت نے اپنے قلمدان سے غیرمتعلق اُمور میں دخل دیتے ہوئے ریمارکس کئے کہ جب کبھی مسلم آبادی میں اضافہ ہوا اور ہندو آبادی میں کمی آئی ، ملک تقسیم کی طرف بڑھتا دیکھا گیا ہے ۔ ہم نے ریاست کے سیمانچل ، میتھی لانچل اور کوسی خطوں میں دیکھا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ان خطوں کے کئی دیہات میں ہندو آبادی سکڑ رہی ہے ۔ امریندر کی دانست میں یہ ریاست کے لئے خطرناک رحجان ہے۔ ریاستی وزیر نے زور دیا کہ پاپولیشن کنٹرول ایکٹ ناگزیر ہے جس کے بغیر عمومی طورپر ملک کی آبادی اور خصوصی طورپر مسلم آبادی پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔