سعودی عرب کو 22 فیصد باسمتی رائس کی برآمدات، عراق، ایران بھی اہم حصہ دار
حیدرآباد۔ 6 جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان کی زرعی پیداوار اور خاص طور پر چاول کی مختلف اقسام کی دنیا بھر میں بڑھتی مانگ کے پیش نظر کئی ریاستوں نے چاول کی پیداوار پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ چاول کی مختلف اقسام میں باسمتی رائس کو مختلف ممالک سے غیر معمولی ستائش حاصل ہوئی ہے اور دنیا کے کئی اہم ممالک میں باسمتی چاول کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان کا باسمتی رائس برآمد کرنے والا سعودی عرب سب سے بڑا ملک ہے جہاں 22.4 فیصد باسمتی چاول حاصل کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی مجموعی پیداوار میں سب سے زیادہ باسمتی چاول حاصل کرنے والا ملک سعودی عرب ہے۔ سروے کے مطابق خلیجی ممالک میں ہندوستان کے باسمتی رائس کو کافی پسند کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باسمتی چاول کی برآمدات میں ہندوستان کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ عراق اور ایران بھی ہندوستان سے باسمتی چاول کی برآمدات کرنے والے اہم ممالک ہیں۔ عراق کو 16.8 فیصد جبکہ ایران کو 13.7 فیصد باسمتی چاول برآمد کیا جاتا ہے۔ ہندوستان سے باسمتی چاول حاصل کرنے والے دیگر ممالک میں متحدہ عرب امارات، یمن، امریکہ، برطانیہ، کویت، عمان اور قطر شامل ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک ہندوستان سے 16.6 فیصد باسمتی چاول حاصل کررہے ہیں۔ چاول کی مختلف اقسام کی پیداوار میں ہندوستان کی منفرد شناخت ہے اور فائن رائس کی پیداوار نے جاریہ سال تمام سابقہ ریکارڈس توڑ دیئے ہیں۔ ریاستوں کے اعتبار سے تلنگانہ میں چاول کی پیداوار دیگر ریاستوں کے مقابلے زائد ریکارڈ کی گئی۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کو ایسی پیداوار پر توجہ دینے کی ترغیب دی جارہی ہے جن کی دیگر ممالک میں مانگ ہے۔ متبادل فصلوں کی ترغیب کے ذریعہ کسانوں کو بھاری منافع پہنچانا حکومت کا مقصد ہے۔ 1؍F m/b/