ہندو مذہب کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ پوسٹس ، دوافراد گرفتار

   

گوہاٹی، 23 جون (آئی اے این ایس) ۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے پیرکو کہا کہ آسام پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہندو مذہب کے خلاف مبینہ قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں دو مزید افراد کوگرفتارکیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کی شناخت انیس الرحمان اور فریس الاسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ انیس الرحمان کو ضلع تینسکیا سے جبکہ فریس الاسلام کو ضلع نگاؤں سے پولیس نے گرفتارکیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعلیٰ سرما نے لکھا: ہندو مخالف عناصر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔پولیس نے ہندومت کے خلاف قابل اعتراض مواد شیئر کرنے پر محمد انیس الرحمان کوگرفتار کیا۔علاوہ ازیں بھگوان رام پر توہین آمیز تبصرہ کرنے پر فریس الاسلام کو گرفتار کیا۔ انہوں نے مزید کہا اب تک 97 قوم مخالف اور ہندو مخالف افرادکوگرفتارکیا جا چکا ہے۔ ان 97 گرفتار شدگان میں سب سے نمایاں نام آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام کا ہے، جو ریاست میں پاکستان نواز موقف رکھنے پر سب سے پہلے یکم مئی کو بغاوت کے الزام میں گرفتارکیے گئے۔ امین الاسلام، جو آسام کی دھِنگ اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے ہیں، نے جموں وکشمیر کے پہلگام دہشت گرد حملے سے متعلق ایک اشتعال انگیز بیان دیا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیوکلپ میں لیڈرکو یہ کہتے سنا گیا کہ پہلگام اور پلوامہ حملے حکومت کی سازش کا حصہ تھے۔ امین الاسلام نے کہا چھ سال پہلے پلوامہ میں آرڈی ایکس دھماکہ ہوا اور42 جوان شہید ہوئے، میں نے اسی دن کہا تھا کہ یہ دھماکہ مرکزی حکومت کی سازش ہے، تاکہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات جیتے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا پہلگام میں جو ہوا، اس پر بی جے پی یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کر صرف ہندوؤں پر فائرنگ کی مسلمانوں کو چھوڑدیا لیکن متاثرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے کسی کا نام یا مذہب پوچھے بغیر فائرنگ کی۔