سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ ، وزرائے اعظم مودی اور اسٹارمر کی بات چیت
نئی دہلی، 9 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات کے لیے کام کرنے پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے عالمی امن، خوشحالی، اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے ہندوستان کی کوشش کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کے روز یہاں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ علیحدہ اور وفود کی سطح پر بات چیت کی۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے عالمی امن، خوشحالی اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تئیں اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ برطانیہ نے ان اصلاحات کی روشنی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے ہندوستان کی درخواست پر اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دولت مشترکہ کی تشکیل کرنے والے مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیلے ہوئے 2.5 ارب لوگوں کی مشترکہ اقدار اس کی طاقت ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے شعبوں میں دولت مشترکہ کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین میں اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس سمت میں مختلف ممالک کی طرف سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ مسٹر مودی اور مسٹر اسٹارمر نے مغربی ایشیا میں امن اور استحکام کے تئیں اپنی عہد بندی کا اعادہ کیا، متعلقہ فریقوں سے تحمل سے کام لینے ، شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے صورتحال مزید خراب ہو اور علاقائی استحکام کو خطرہ ہو۔ انہوں نے غزہ کے لیے امریکی امن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا اور فوری اور دیرپا جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔ دونوں فریقوں نے محفوظ اسرائیل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے دو ریاستی حل کی جانب ایک قدم کے طور پر پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا۔