ہند۔ امریکہ تجارتی معاہدہ

   

میں خطا کار سہی تیرا کرم کیا کم ہے
سرخ رُو ہوں تری دہلیز کا غم کیا کم ہے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ کا اعلان کردیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہندوستان سے جو اشیاء امریکہ درآمد کی جائیں گی ان پر شرحوںکو 25 فیصد سے 18 فیصد کردیا جائے گا اس طرح دونوں ملکوں کے مابین تجارتی معاہدہ کے تعلق سے جو کئی ماہ سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہو رہی ہے تاہم اب بھی اس معاہدہ کے تعلق سے کئی سوالات ہیں جن کے جواب سامنے نہیں آئے ہیں۔ کئی ایسے پہلو ہیں جن کی وضاحت نہیں ہو پائی ہے ۔ ٹرمپ نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہندوستان نے بھی تجارتی معاہدہ کے تحت امریکہ کیلئے کئی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جن میں روسی تیل کی خریداری کو روکنا بھی شامل ہے ۔ اس پر بھی ہندوستان نے کوئی بیان نہیں دیا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے امریکی اشیاء پر شرحوں اور غیر شرحیوں کے اقدامات کو صفر کرنے کا تیقن بھی دیا ہے ۔ اس سے ہندوستان کو ملنے والا مالیہ گھٹ جائے گا ۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے امریکہ سے 500 بلین ڈالرس کی اشیاء خریدنے سے بھی اتفاق کیا ہے ۔ یہ معاہدات توانائی ‘ ٹنالوجی ‘ زرعی اشیاء اور کوئلہ کی خریداری سے متعلق ہوسکتے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین تجارتی معاہدہ ہوگیا ہے جس کیلئے کئی ماہ سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تاہم اس تعلق سے کوئی پہلووں کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ واضح کیا جانا چاہئے کہ ہندوستان نے امریکہ کے کس کس پہلو پر دباؤ کو تسلیم کیا ہے اور امریکہ کیلئے کیا کچھ مراعات دی گئی ہیں۔ اگر مراعات دی گئی ہیں تو ان کی وجوہات کیا رہی ہیں اور ہندوستان کیلئے اس کے کیا مضر یا منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ یہ بات تو طئے کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ اکثر و بیشتر اپنے ہی مفادات کی تکمیل کرتے ہوئے معاہدات کرتا ہے ۔ امریکہ کسی بھی دوسرے ملک کو مراعات دینے کی بجائے خود مراعات حاصل کرتا ہے اور اس کیلئے وہ دباؤ کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے ۔ دوسرے ممالک پر دباؤ بناتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان کے ساتھ بھی اس نے گذشتہ کچھ عرصہ میں دباؤ کی حکمت عملی ہی اختیار کی تھی ۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ہند ۔ امریکہ تجارتی معاہدہ کو قطعیت دئے جانے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک اچھی خبر قرار دیا ہے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیںکی ہے کہ ہندوستان پر امریکہ کی جانب سے تجارتی معاہدہ کیلئے کیا کچھ شرائط عائد کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ معاہدہ کی دیگر تفصلات کو بھی ابھی واضح نہیںک یا گیا ہے ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستانی اشیاء پر اب امریکہ میں 18 فیصد شرحیں ہی عائد ہونگی اور وہ ہندوستانی عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ یقینی طور پر دو بڑے ممالک کے مابین تجارتی معاہدہ اچھی بات ہے لیکن اس کی تمام تر تفصیلات کو ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر ان شرائط کو واضح کیا جانا چاہئے جو امریکہ نے عائد کئے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا جانا چاہئے کہ معاہدہ کو قطعیت دینے کیلئے ہندوستان نے کیا کچھ مراعات امریکہ کیلئے منظور کی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستانی معیشت پر کیا کچھ اثرات مرتب ہونگے ۔ معاہدہ ہندوستانی صنعتی حلقوں اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ کیلئے مثبت رہے گا یا اس کے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہونگے۔ محض معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اور صدر ٹرمپ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے ملک کے عوام کو اندھیرے میں نہیںرکھا جاسکتا اور نہ رکھا جانا چاہئے ۔ ملک کے عوام کو اس معاہدہ کی مکمل تفصیلات سے آگہی حاصل کرنے کا حق ہے اور حکومت کو یہ تفصیلات ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے چاہئیں تاکہ کچھ شبہات ہوں تو انہیں دور کیا جاسکے ۔
ٹرمپ نے معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری کو روکنے کا تیقن بھی دیا ہے ۔ ہندوستان نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا اور روس سے تیل کی خریداری کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ یہ ملک کے مفاد میں ہے۔ اب اگر تیل کی خریداری روس سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس کی وجہ بھی بتائی جانی چاہئے ۔ یہ بھی واضح کیا جانا چاہئے کہ آیا اب روس سے تیل کی خریدی مہنگی تو نہیں ہوگئی ہے ۔ کس بنیاد پر روس سے تیل نہیںخریدا جائے گا ۔ کئی سوالات ہیں جو معاہدہ کی تفصیل منظر عام پر آنے سے پیدا ہونگے اور حکومت کو ان کا جواب دینا چاہئے ۔