!ہوائی جہاز کے فیول سے پٹرول مہنگا

   

Ferty9 Clinic

اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کرسکے !
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کا سلسلہ جاری ہے ۔ مودی حکومت میں پٹرول کی قیمتیں دوگنی کے قریب ہوگئی ہیں۔ 66 روپئے فی لیٹر والا پٹرول اب کچھ شہروں میں 110 روپئے کو پار کر گیا ہے ۔ اسی طرح ڈیزل نے بھی اپنی سنچری مکمل کرلی ہے ۔ گذشتہ چار دن سے پٹرول قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ عوام کی جیبوں پر خاموشی کے ساتھ مسلسل ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ا س کے نتیجہ میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن حکومت اس تعلق سے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ الٹا حکومت کے ذمہ داران قیمتوں میں اضافہ کے تعلق سے ناقابل یقین دعوے کرتے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں عوام کو کورونا سے بچاو کا ٹیکہ دینے کیلئے جو رقم درکار ہوتی ہے وہ پٹرول قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ حاصل کی جا رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 2014 کے بعد سے پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کورونا ٹیکہ دینے کا آغاز تو صرف جاریہ سال سے ہی ہوا ہے ۔ ایک وزیر نے تو یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں پٹرول سے پانی مہنگا ہوگیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول ہر شئے سے مہنگا ہوتا جا رہا ہے ۔ اب تو حد یہ ہوگئی ہے کہ ہوائی جہاز میں جو فیول ( ائر ٹربائین فیول ) استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی پٹرول سے تقریبا 30 فیصد سستا ہوگیا ہے ۔ اس طرح ہوائی جہاز اڑانے والی کمپنیوں کو راحت مل رہی ہے لیکن ملک کے عوام کو راحت پہونچانے کیلئے نہ مرکز کی نریندر مودی حکومت تیار ہے اور نہ ہی ملک کی مختلف ریاستوں میں قائم حکومتیں تیار ہیں۔ صرف ٹاملناڈو میں ایم کے اسٹالن کی حکومت نے ریاست کی آمدنی کو کم کرتے ہوئے فی لیٹر تین روپئے کی کٹوتی کی ہے جس سے عوام کو قدرے راحت ملی ہے لیکن دوسری ریاستیں اپنے خزانے بھرنے میں اور مرکزی حکومت اپنا خزانہ بھرنے میںمصروف ہے اور ان تمام کو عوام کو راحت پہونچانے سے کوئی غرض نہیں رہ گئی ہے ۔ عوام پر مسلسل بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ پکوان گیس کی قیمتیں بھی دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہیں اور ایک سلینڈر 1000 روپئے سے پار ہوگیا ہے ۔
مرکزی حکومت فی الحال یہ عذر پیش کر رہی ہے کہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیمتیں اتنی بھی نہیں بڑھی ہیں کہ حکومت خود بوجھ برداشت نہ کر سکے ۔ اس کے علاوہ جب بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتیں سب سے کم ہوگئی تھیں اس وقت بھی حکومت نے عوام کو کوئی راحت پہونچانے کی بجائے اپنے خزانہ کو بھرنے پر توجہ دی اور عوام کو قیمتوں میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں پہونچایا ۔ حکومت وقفہ وقفہ سے پٹرولیم اشیا پر اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتی جا رہی ہے ۔ نت نئے سرچارج عائد کئے جا رہے ہیں۔ کئی طرح کے محاصل عائد کرتے ہوئے پٹرول قیمت سے اضافی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔ ایک طرح سے حکومت کے ہر کام کیلئے غریب عوام سے ہی ٹیکس حاصل کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ اپنے حاشیہ بردار کارپوریٹس کو ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑ روپئے کا فائدہ پہونچایا جا رہا ہے ۔ کسی کارپوریٹ پر ٹیکس عائد کرنے میں حکومت اتنی تیزی نہیں دکھاتی جتنا پٹرولیم اشیا پر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ حکومت عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے کارپوریٹ دنیا کو نفع پہونچانے کے مقصد سے کام کر رہی ہے ۔ اب تو ائر ٹربائین فیول سے زیادہ مہنگا پٹرول ہوگیا ہے اور یہ بھی صرف مودی حکومت میں ممکن ہوسکا ہے ۔ ایک طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ دو پہئیہ گاڑی پر سفر کرنا ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے زیادہ مہنگا ہوگیا ہے اور آزاد ہندوستان میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ۔
عوام میں اس تعلق سے شعور بیدار کرتے ہوئے انہیں صدائے احتجاج بلند کرنے کیلئے تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کا جو میڈیا ہے اس نے تو حکومت کی خامیوں او ر غلط پالیسیوں پر سوال کرنا ترک کردیا ہے اور تلوے چاٹنے کے مقابلے میں لگا ہوا ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کو اس تعلق سے حکمت عملی بناتے ہوئے مسلسل احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ۔ تیل کمپنیوں کی من مانی اور حکومت کی لوٹ کو روکنے کیلئے ملک بھر میں اس کیلئے عوامی شعور بیداری ضروری ہے ۔ 100 فیصد سے زیادہ محاصل عائد کرتے ہوئے عوام کو لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور یہی بات عوام کو سمجھاتے ہوئے حکومت کو عوامی جیب پر ڈاکہ ڈالنے سے روکا جاسکتا ہے ۔