جی ایچ ایم سی ، محکمہ صحت ، پولیس کی غفلت ، صفائی عملہ تیزی سے متاثر
حیدرآباد :۔ کورونا سے متاثر ہو کر ہوم آئسولیشن میں رہنے والے مریضوں کے استعمال کردہ اشیاء عوام کی صحت بالخصوص بلدیہ کے صفائی کرمچاریوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس سے کورونا کے کیسیس میں مزید اضافہ ہورہا ہے ۔ ریاست میں فی الحال تقریبا 50 ہزار کورونا کے سرگرم کیس ہیں ۔ ان میں 30 ہزار سے زیادہ متاثرین ہوم آئیسولیشن میں ہیں ۔ ان کی زیادہ تر تعداد حیدرآباد ، اضلاع میڑچل ، و رنگاریڈی میں پائی جاتی ہے ۔ ان کے استعمال کردہ پی پی ای کٹس ، ماسکس ، گلوزس اور دوسری اشیاء کھلے مقامات پر پھینک دیا جارہا ہے ۔ جس سے عوام میں خوف و دہشت پیدا ہورہی ہے ۔ کچرے کی صفائی کرنے کا عملہ بھی کورونا سے متاثر ہورہا ہے ۔ کورونا کی پہلی لہر پر حکومت جی ایچ ایم سی ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے خصوصی توجہ دی جاتی تھی جب کہ دوسری لہر ریاست میں قہر ڈھا رہی ہے ۔ کورونا کے کیسوں کے ساتھ اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ لیکن متاثرین کو ان کے اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ پہلے صرف شک ہونے پر ہی بڑے پیمانے پر احتیاطی اقدامات کئے جاتے تھے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کی جانب سے متاثرین کو ہاسپٹل منتقل کرنے میں سرگرم رہتا تھا اور ہوم آئیسولیشن میں رہنے والوں کی صحت پر نرسنگ اسٹاف خصوصی توجہ دیتا ان کے گھروں کو پہونچکر پی پی ای کٹس ادویہ وغیرہ فراہم کی جاتی تھی ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے متاثر کے گھر پر انتباہ کا بورڈ آویزاں کیا جاتا تھا اور سارے علاقے ہائیڈرو کلورین کے ذریعہ پچکاری کی جاتی تھی ۔ اب ایسا کوئی کام نہیں کیا جارہا ہے ۔ پولیس کی جانب سے سارے علاقہ کی ناکہ بندی کی جاتی تھی ۔ لیکن فی الحال ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ جس سے کئی مقامات پر متاثرین کے ضرورت کے سامان حاصل کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی شکایت ہے ۔ متاثرین کے استعمال کردہ اشیاء کو گھروں سے اٹھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ اشیاء کچرے دانوں اور عام ماقمات پر پھینک دی جارہی ہیں۔۔