واشنگٹن: ڈیمو کریٹک صدارتی اْمیدوار کملا ہیریس اور ری پبلکن اْمیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان صدارتی مباحثے کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔ منگل کی شب ہونے والے اس مباحثے کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے۔دونوں اْمیدواروں کے درمیان اس سے قبل کبھی بالمشافہ ملاقات یا ٹیلی فون پر بات نہیں ہوئی۔ لیکن منگل کی شب دونوں فلاڈیلیفا کے نیشنل کانسٹی ٹیوشن سینٹر میں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوں گے۔مباحثے کیلئے 90 منٹ کا وقت مقرر کیا گیا ہے جس میں ‘اے بی سی نیوز’ کے ڈیوڈ مویئر اور لِنسی ڈیوس دونوں اْمیدواروں سے سوالات کریں گے۔لاکھوں امریکی شہری اس مباحثے کو دیکھیں جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں اْمیدواروں کے درمیان واحد مباحثہ ہو گا۔ یہ صدارتی مباحثہ انتخابات سے آٹھ ہفتے قبل ہو رہا ہے جبکہ کچھ ریاستوں میں ‘ارلی ووٹنگ’ میں بھی چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں۔ الیکشن سے قبل ہونے والے پولز کے مطابق دونوں اْمیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مباحثے کو دونوں اْمیداروں کیلئے اْن ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اہم سمجھا جا رہا ہے جو تاحال کسی اْمیدوار کی جانب جھکاؤ نہیں رکھتے۔جولائی میں صدر بائیڈن نے انتخابی مہم سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے کملا ہیریس کو صدارتی اْمیدوار بنانے کی حمایت کی تھی۔ یہ اعلان جون کے آخر میں ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے صدارتی مباحثے میں متاثر کن کارکردگی نہ دکھانے کے بعد سامنے آیا تھا۔ جب بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم ختم کی تو اس وقت وہ رائے عامہ کے جائزوں میں ڈونالڈ ٹرمپ سے پیچھے تھے۔کملا ہیریس کو اْمیدوار بنانے کے ساتھ ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے بھی اْن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد رائے عامہ کے کئی جائزوں میں وہ ڈونالڈ ٹرمپ سے دو سے تین فی صد آگے ہیں۔