ریاست کرناٹک میں بی جے پی کیلئے مشکلات میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ پارٹی ریاست میں کانگریس اور جے ڈی ایس میں انحراف پیدا کرتے ہوئے پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور بی ایس یدیو رپا کو چیف منسٹر بنایا گیا تھا ۔ تاہم بعد میں انہیںاس عہدہ سے ہٹادیا گیا ۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یدیورپا کی عمر ہوگئی ہے اس لئے پارٹی اصولوںکو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیںاس عہدہ سے ہٹادیا گیا ہے ۔ تاہم کچھ گوشوں کا یہ بھی دعوی تھا کہ یدیورپا کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات پائے گئے تھے ۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف کچھ ارکان اسمبلی ناراض بھی ہوگئے تھے جنہیں وزارتی یا دوسرے عہدے حاصل نہیںہوئے تھے ۔ ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے خود یدیورپا کے قریبی حلیف سمجھے جانے والے بی آر بومائی کو وزارت اعلی سونپ دی گئی تھی ۔ جس وقت سے مسٹر بومائی ریاست کے چیف منسٹر بنے ہیںریاست میںفرقہ ورانہ نوعیت کے مسائل کو زیادہ توجہ کے ساتھ ہوا دی جا رہی ہے ۔ ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ سماج میں نفرتیںفروغ دی جا رہی ہیں اور ترقیاتی و دیگر بنیادی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ یدیورپا جس برادری سے تعلق رکھتے ہیں اس کا کرناٹک کی سیاست پر بہت زیادہ اثر ہے ۔ گذشتہ دنوں ایک ہندو مذہبی شخصیت کو عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں اس برداری میں بی جے پی کی مقبولیت کا گراف گھٹنے لگا تھا ۔ اس طرح آج یدیورپا کے خلاف لوک آیوکت پولیس نے بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ۔ حالانکہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس سے لنگایت برادری میں بی جے پی کے تعلق سے اچھا پیام نہیں جائے گا ۔ بی جے پی کو پہلے ہی اس برادری کے ووٹ کھسکتے محسوس ہو رہے ہیں۔ ایسے میںایک مذہبی شخصیت کی عصمت ریزی جیسے سنگین الزام میں گرفتاری اور پھر اب یدیورپا کے خلاف مقدمہ درج کردئے جانے سے پارٹی کیلئے صورتحال اور بھی مشکل ہوسکتی ہے ۔ ابھی یہ واضح نہیںہوسکا ہے کہ بی جے پی اس تعلق سے کیا موقف اختیار کرتی ہے ۔
کرناٹک میں جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو وہ کسی مقبول عام یا قد آور لیڈر سے محروم کہی جاسکتی ہے اگر یدیورپا بی جے پی سے دوری اختیار کرلیں۔ یدیورپا جنوبی ہند میں بی جے پی کو پہلا اقتدار دلانے والی شخصیت رہے ہیں۔ وہ کرناٹک کی سیاست کا اہم ستون بھی کہے جاتے ہیں۔ لنگایت برادری میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ ساری برداری کی تائید بی جے پی کو حاصل ہوتی ہے ۔ اب جبکہ یہ قیاس شروع ہو رہے تھے کہ بی ایس یدیورپا ایک بار پھر ریاست کی سیاست میں سرگرم ہوسکتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ کا اندراج ان کے حامیوں میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ ان کا تعلق بی جے پی سے ہے ۔ اگر یہی مقدمہ کسی اور جماعت سے عتلق رکھنے والے لیڈر کے خلاف درج کیا جاتا تو اب تک ان کے خلاف زبردست پروپگنڈہ شروع کردیا جاتا ۔ تحقیقاتی ایجنسیاں سرگرم ہوجاتیں اور انہیں گرفتار بھی کرلیا جاتا ۔ یہ بی جے پی کا وطیرہ ہے کہ اس کی صفوں میں موجود قائدین کے خلاف چاہے جتنے ہی الزامات درج ہوجائیں ۔ کتنے ہی ایف آئی آر کاٹے جائیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کو کسی قصور کے بغیر مقدمات میں پھانسا بھی جاتا ہے ۔ گرفتار بھی کیا جاتا ہے اور جیلوں میں بھیج کر ضمانتوں تک سے محروم کیا جاتا ہے ۔
موجودہ صورتحال میں بی جے پی کیلئے نہ اگلتے ہی بنے اورنہ نگلتے ہی بنے والی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے ۔ یدیورپا کے خلاف مقدمہ تو درج ہوگیا ہے ۔ انہیں گرفتار کرنے یا تحقیقات کو منطقی انجام تک پہونچانے کی امید کرنا ہی فضول ہے ۔ تاہم ان کے خلاف مقدمہ کے نتیجہ میں پارٹی کو لنگایت برداری میں اپنی مقبولیت سے محروم ہونا پڑسکتا ہے ۔ عوامی تائید میں کمی آسکتی ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یدیورپا کو سرگرم سیاست میں واپسی سے روکنے کیلئے مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پارٹی کیلئے اور بھی مشکل ہوسکتی ہے اور لنگایت برداری کی تائید سے بی جے پی کو بڑی حد تک محروم ہونا بھی پرسکتا ہے ۔
