اقوام متحدہ عالمی ادارہ صحت کے عملہ کو عمارت سے نکالا نہیں جاسکا، ڈائرکٹر جنرل ٹیڈروس کا بیان
صنعاء : اسرائیل نے جمعرات کے روز پھر سے یمن میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں دارالحکومت صنعاء کا سرویسز فراہم کرنے والا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور اس سے متصل الدیلمی ایئر بیس بھی شامل ہیں۔حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیرہ ٹی وی نے اطلاع دی ہیکہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے میں تین افراد ہلاک اور گیارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئسس نے بتایا کہ ان حملوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے عملے کو وہاں سے نہیں نکالا جا سکا، جو وہاں قیدیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات کرنے والے مشن کا حصہ تھا۔انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ صنعاء میں جب ہم اپنی پرواز میں سوار ہونے والے تھے، تقریباً دو گھنٹے قبل، تبھی یہ ہوائی اڈہ فضائی بمباری کی زد میں آیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے میں جہاز سے متعلق اقوام متحدہ کے عملے کا ایک رکن زخمی بھی ہوا۔ انہوں نے بتایاکہ ہمیں اب یہاں سے جانے سے پہلے، ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا انتظار کرنا پڑے گا۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کہا ہے، فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ابھی انٹلیجنس برانچ کی نگرانی میں مغربی ساحلی پٹی اور یمن کے اندر حوثی دہشت گرد حکومت کے دہشت گردوں کے اہداف پر حملہ کیا۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ حوثی دہشت گرد حکومت کی جانب سے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور عزیز اور راس قنطیب پاور اسٹیشنوں پر ان کی عسکری سرگرمیوں کیلئے استعمال کیے جانے والے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘‘فوج نے بتایا کہ یمن کے مغربی ساحل پر الحدیدہ، السلف اور راس قنطیب کی بندرگاہوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، وہ ‘ایرانی ہتھیاروں کی منتقلی یا پھر ایران سے آنے والے سینئر حکام کا خیر مقدم کرنے کیلئے استعمال کیے جاتے تھے۔یمنی میڈیا نے اس سے قبل ان مقامات پر دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی اور ایک حوثی ترجمان نے اسرائیل پر جارحیت کا الزام لگایا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی جمعرات کے روز ہونے والے ان اسرائیلی حملوں پر مختصر تبصرہ کیا۔انہوں نے عبرانی زبان میں اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم دہشت گردی کی اس شاخ کو برائی کے ایرانی محور سے کاٹ دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ جب تک یہ کام نہیں ہو جاتا، ہم یہ (حملے) جاری رکھیں گے۔بعد میں نیتن یاہو نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو بتایا کہ انہوں نے فوج کو یمن میں ایسے انفراسٹرکچر پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کیلئے کہا ہے، جو حوثیوں کے زیر استعمال ہیں۔نیتن یاہو نے پارلیمان کو بتایاکہ میں نے اپنی فورسز کو حوثیوں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ جو بھی ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اس پر پوری طاقت سے حملہ کیا جائے گا۔