برسلز: یوکرین پر روسی حملے کے جواب میں یوروپی یونین کی کونسل (ای یو) نے جمعہ کو روس پر پابندیوں کا چھٹا پیکیج عائد کردیا۔ یوکرین کے خلاف روسی حملے کو ایک سو دن گزر چکے ہیں۔کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ کونسل نے بیلاروس کی حمایت سے یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت اور روسی مسلح افواج کی جانب سے کی جانے والی مبینہ بربریت کے پیش نظر چھٹی بار روس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس پیکیج میں روس سے خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اضافی تین روسی اور ایک بیلاروسی بینکوں کے لیے سوئفٹ پابندی، اور روسی حکومت کی ملکیت والے تین آوٹ لیٹ کے لیے یورپی یونین کو ترسیل کی معطلی شامل ہے ۔ خارجی امور اور سلامتی کی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے جوزپ بوریل نے کہاکہ آج کے پیکج کے ساتھ، ہم مزید اقتصادی پابندیاں لگا کر جنگ پر پیسہ خرچ کرنے کی روس کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں۔ ہم یورپی یونین میں روسی تیل کی درآمد پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی روس کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہو رہا ہے ۔ ہم بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سوئفٹ سے مزید بڑے روسی بینکوں کو کاٹ رہے ہیں۔ بوریل نے کہاکہ ہم بوکا اور ماریوپول میں ہونے والے مظالم کے ذمہ داروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لا رہے ہیں اور صدر پوتن کے جنگی پروپیگنڈے میں فعال طور پر تعاون کرنے والوں پر بھی پابندی لگا رہے ہیں۔کونسل نے کہاکہ ان پابندیوں سے یورپی یونین کے ان رکن ممالک کو الگ رکھتا ہے جو پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی درآمد کے لیے روس پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے ممالک جو اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے روسی سپلائی پر مخصوص انحصار کا شکار ہیں اور ان کے پاس کوئی قابل عمل متبادل نہیں ہے ۔