غزہ تنازعہ سے پیسہ کمانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہ کرنے کی مفاہمت پر دستخط
ٹورنٹو :انٹاریو یونیوسٹی غزہ کے تنازعہ سے پیسہ کمانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہ کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کرنے والا کینیڈا کا پہلا بڑا تعلیمی ادارہ بن گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اونٹاریو ٹیک یونیورسٹی کے منتظمین اور احتجاجیوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے ختم ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی یونیورسٹیوں میں احتجاجی مظاہرے 18 اپریل سے شروع ہوئے تھے، یہ احتجاج سب سے پہلے نیویارک یونیورسٹی میں ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی پھیل گئے تھے۔طلبا کو بھیجے گئے معاہدے کی ایک کاپی کے مطابق اس معاہدے پر پیر کو دستخط ہوئے تھے اس میں یونیورسٹی کی جانب سے متعدد وعدے شامل ہیں جس میں یونیورسٹی نے اتفاق کیا کہ معاہدے پر دستخط کرنے کے 24 گھنٹوں کے اندر کیمپس میں موجود کیمپ کو ختم کر دیا جائے۔معاہدے میں بیان کردہ وعدوں میں سے ایک یہ ہے کہ یونیورسٹی ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے طریقوں پر عمل کرے گی، یونیورسٹی نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری نہیں کرے گی جو فلسطین میں جاری انسانی بحران سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ جلد یونیورسٹی کی تمام سرمایہ کاری اور مالیاتی ہولڈنگز کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک رپورٹ عوامی طور پر جاری کریں گے۔معاہدے کے تحت یونیورسٹی ایک ذمہ دار سرمایہ کاری کا ورکنگ گروپ قائم کرے گی جو بہترین طریقوں کا جائزہ لے گی اور سفارشات پیش کرے گی کہ یونیورسٹی اپنی سرمایہ کاری میں ماحولیاتی، سماجی، اور گورننس عوامل تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔ یہ ہتھیاروں کی تیاری اور ترسیل میں مصروف کمپنیوں یا فلسطین یا دیگر خطوں میں فوجی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں پر خصوصی توجہ دے گی۔یونیورسٹی نے جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے 3 انڈرگریجویٹ اسکالرشپس کی فنڈ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔یونیورسٹی منتظمین نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ کیمپ میں حصہ لینے والے طلبا اور فیکلٹی کو تعلیمی یا روزگار کی بنیاد پر انتقامی کارروائی سے محفوظ رکھا جائے گا۔مظاہرین اور اونٹاریو ٹیک یونیورسٹی کے درمیان معاہدہ ایسے وقت میں سامنا آیا جب امریکہ میں غزہ سے اظہار یکجہتی اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔طلبا مظاہرین اپنی یونیورسٹیوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ غزہ میں جنگ سے فائدہ اٹھانے والی یا ہتھیار فراہم کرنے والی کمپنیوں سے علیحدگی اختیار کریں۔ٹورنٹو یونیورسٹی میں درجنوں طلبا نے اب بھی کیمپ لگایا ہوا ہے کیونکہ مظاہرین اور یونیورسٹی کے درمیان مذاکرات ابھی تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچے ہیں۔