آج ہندوستان یوم جموہریہ ہند منارہا ہے ۔ آج ہی کے دن 1950 میں ہندوستان ایک جمہوری ملک قرار دیا گیا تھا اور ہندوستانی جمہوریت نے کئی دہوں کے اپنے طویل سفر میں دنیا بھر میں ایک انفرادی مقام حاصل کیا تھا ۔ دنیا بھر میں ہندوستان کو دوسری سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے اور ہندوستانی جمہوریت کی دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک ہندوستان کی جمہوریت کی نقل کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں اور ہندوستانی جمہوریت کی روانی کے قائل ہیں۔ دنیا بھر میں کئی ممالک میں جمہوریت کا قتل کیا گیا اور جمہوری اصولوں کوداغدار کرتے ہویء ڈاکٹریٹ شپ اور آمرانہ حکومتیں قائم ہوئیں اور انہوں نے من مانی انداز اختیار کیا تاہم ہندوستان نے اپنی مکمل تاریخ میں جمہوریت کی پاسداری کی ہے اور جمہوری اصولوں پر ہی کام کیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے عوام قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے جمہوری عمل میں ہر بار اپنا حصہ ادا کیا ہے ۔ ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے عوام نے جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے اور جمہوریت کے تئیں اپنے یقین اور اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ یہ ہندوستانی جمہوریت ہی کا طرہ امتیاز کہا جاسکتا ہے کہ سماج کے پچھڑے ترین طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ملک کے اعلی ترین عہدوں تک ترقی کرنے میں کامیاب رہے اور اعلی عہدوں پر فائز ہوئے ۔ یہ جمہوریت ہی کا اعجاز تھا کہ طاقتور ترین سیاسی قائدین کو عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ حاشیہ پر لا کھڑا کردیا تھا اور کمزور سمجھے جانے والے افراد کو اعلی عہدوں پر فائز کردیا تھا ۔ ملک کی جمہوریت میں عوام کے اعتماد کا ہی نتیجہ تھا کہ سیاسی جماعتیں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کی پابند ہوتی ہیں اور حکومتیں عوام کیلئے کام کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہوتی ہیں۔ یہ ہندوستان کی جمہوریت ہی ہے جس کے نتیجہ میں ملک کے عوام ہر پانچ سال میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے کسی کو نچلی سطح سے اٹھا کر ملک کے اقتدار اعلی تک پہونچا دیتے ہیں اور کسی کو اقتدار اعلی سے بیدخل کرتے ہوئے حاشیہ پر لا کھڑا کردیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا احساس دلاتے رہتے ہیں کہ وہ عارضی اقتدار کے مالک ہیں اور حقیقی طاقت کو ملک کے عوام کے ہاتھ میں ہے ۔
گذشتہ ایک دہے میں تاہم یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ ملک کے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ کئی اعلی اور دستوری اداروں کو ان کے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آزادی اور غیرجانبداری سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ ان اداروں کو مکمل آزادی فراہم کرنے کی بجائے حکومت کے اشاروںپر ناچنے والی کٹھ پتلی بنانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور قابل تشویش بات یہ ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کے ذمہ دار ادارے الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری بھی مشکوک ہونے لگی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اور جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونے لگا ہے ۔ کئی گوشوں سے اس تعلق سے سوال اٹھائے جانے کے باوجود الیکشن کمیشن ان کا واضح اور اطمینان بخش جواب دینے کو تیار نہیں ہے بلکہ ہر تنقید و الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ صورتحال ملک اور ملک کی جمہوریت کیلئے بہتر اور مناسب نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن ہی ملک میںجمہوری عمل کو مستحکم کرنے اور جمہوریت میں عوام کے یقین کو برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے اور اگر یہی ادارہ اور اس کی کارکردگی و غیر جانبداری مشکوک ہوجائے تو یہ ہندوستانی جمہوریت کیلئے ایک تشویش کا پہلو ضرور کہا جاسکتا ہے ۔اس کے نتیجہ میں ملک کی جمہوریت کے تعلق سے سوال پیدا ہونے لگیں گے اور سوال پیدا ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کو بدلا جانا چاہئے ۔
ہندوستان دنیا بھر میں اپنی ترقی اور مضبوط بنیادوں کی وجہ سے ستائش کی نظرو ں سے دیکھا جارہا ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی جمہوریت کو مستحکم کیا جائے ۔ جمہوری عمل کے مستقبل کو تابناک رکھا جائے ۔ اس تعلق سے اگر کچھ شوک و شبہات پیدا ہونے لگے ہیں توان کو دور کرنا چاہئے اور اس کا ازالہ کیا جانا چاہئے ۔ ملک کی جمہوریت اور جمہوری عمل کو کمزور ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی جمہوریت کے مستقبل کے تعلق سے شکوک و شبہات کو تقویت پانے کا موقع دیا جاسکتا ہے ۔ آج یوم جمہوریہ کے موقع پر یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر ہندوستانی ملک کی جمہوریت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے جدوجہد کرے گا ۔