طالبات کے ساتھ بدسلوکی ، کانسٹبل نے ایک طالبہ کو نوچ لیا، ویڈیو وائرل، پولیس تنقید کا نشانہ
حیدرآباد ۔ /31 جولائی (سیاست نیوز) نظامیہ طبی دواخانہ چارمینار میں آج اُس وقت کشیدگی پھیل گئی جب آیورویدک کے طلباء نے ڈائرکٹر آیوش وی ایس الوگو ورسنی کا گھیراؤ کیا اور احاطہ دواخانہ میں زبردست احتجاج کیا ۔ یونانی دواخانہ چارمینار کے احاطہ سے آیورویدک دواخانہ کی ایرہ گڈہ کو منتقلی کے حکومت کے فیصلہ کے خلاف آیورویدک طلباء گزشتہ چند عرصہ سے اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ منگل کے دن یونانی اور آیورویدک طلباء کے درمیان اس مسئلہ کو لیکر ہلکی سی جھڑپ ہوگئی تھی جس کے نتیجہ میں مغل پورہ پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی گئی تھی ۔ آج صبح سے ہی آیورویدک طلباء حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف اچانک احتجاج شروع کردیا اور دواخانہ پہونچنے والی ڈائرکٹر وارسنی کا گھیراؤ کیا اور ان کی گاڑی کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا ۔ احتجاجی طلباء کی گرفتاری کے دوران چارمینار پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس کانسٹبل کی ایک طالبہ سے بدسلوکی کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے نتیجہ میں پولیس کی اس کارروائی کی سخت مذمت کی گئی ۔ طلباء کئی گھنٹوں تک اپنا احتجاج جاری رکھا جس کے نتیجہ میں ساؤتھ زون پولیس نے مزید پولیس فورسیس کو احاطہ چارمینار دواخانہ طلب کرلیا اور طلباء کو وہاں سے تخلیہ ہونے کا مشورہ دیا لیکن طلباء اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے تھے ۔ احتجاجی طلباء کو گرفتار کرنے کیلئے خاتون پولیس کانسٹبل کے علاوہ بعض مرد پولیس عہدیدار بھی ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے اور ایک طالبہ کی گرفتاری کے دوران چارمینار پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس کانسٹبل پرمیش نے انتہائی بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوچ دیا ۔ طالبہ کی چیخ و پکار کے باوجود بھی اسے وہاں سے منتقل کردیا گیا ۔
اسی طرح ایسے تصاویر و ویڈیوز سوشیل میڈیا میں گشت کرنے لگے جس میں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس میرچوک مسٹر بی آنند ڈائرکٹر ایوش ورسنی کو وہاں سے منتقل کرنے کے دوران ایک طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کیا ۔ اس واقعہ کے ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے نتیجہ میں ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر عنبرکشورجھا نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ سوشیل میڈیا پر بعض مواد گشت کررہا ہے اور بدسلوکی کے واقعہ کا پتہ لگانے کیلئے تحقیقات کی جائے گی اور اس بات کا پتہ لگایا جائے گا کہ پولیس کیا مبینہ بدسلوکی کا واقعہ دانستہ طور پر ہے یا ڈیوٹی انجام دینے کے دوران اتفاقی واقعہ ہے ۔ مغلپورہ پولیس نے احتجاج کرنے والے 23 طلباء کو گرفتار کیا اور بدسلوکی کرنے والے پولیس کانسٹبل کے خلاف بھی ایک مقدمہ درج کرلیا ۔ حالات اُس وقت مزید کشیدہ ہوگئے جب مقامی مجلس رکن اسمبلی ممتاز احمد خان اور ان کے حامی وہاں پہونچ کر پولیس عہدیداروں کی مذمت کرنا شروع کردی ۔ اسی دوران بی جے پی کے قائدین ڈاکٹر بھگوت راؤ اور آلے جیتندر بھی وہاں پہونچ کے آیورویدک طلباء کے حق میں پیروی کی ۔ بعد ازاں ڈائرکٹر ایوش آلوگو ورسنگ نے ایک تحریر کردہ مکتوب طلباء کے حوالے کیا جس میں یہ بتایا گیا کہ آیورویدک دواخانہ احاطہ چارمینار طبی دواخانہ میں موجود رہے گا۔
