درخواستوں کی تنقیح سرچ کمیٹی کرے گی ، پروفیسرس کا غیر معمولی ردعمل
حیدرآباد۔12فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاستی جامعات کے وائس چانسلرس کے عہدوں کے لئے طلب کردہ درخواستوں پر زبردست ردعمل حاصل ہونے لگا ہے اور محکمہ اعلیٰ تعلیمات کو تاحال 55 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان درخواستوں کی وصولی کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہناہے کہ طویل مدت کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے درخواستوں کی طلبی پر ایسا ردعمل ظاہر کیا جا رہاہے۔ وائس چانسلرس کے عہدہ کے لئے اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے ریاستی جامعات کے وائس چانسلرس کے لئے طلب کی گئی درخواستوں میں اب تک جو درخواستیں وصول ہوئی ہیں ان تمام 55 درخواست گذاروں کا تعلق ریاست تلنگانہ سے ہی ہے۔ وائس چانسلر کے عہدہ کے لئے اہل درخواست گذاروں کی جانب سے داخل کی جانے والی درخواستوں کی تنقیح حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی سرچ کمیٹی کی جانب سے کی جائے گی اور اس کے بعد ہی وائس چانسلرس کے تقررات کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے وائس چانسلر یونیورسٹی کے عہدہ پر تقررات کے لئے ماہرین تعلیم سے درخواستوں کی طلبی کے ذریعہ ریاست میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شعبہ تعلیم میں قائدانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو ان اہم عہدوں پر فائز کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ درخواستوں کی طلبی کے بعد محکمہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے سرکردہ اساتذہ جو کہ وائس چانسلرس کے عہدہ پر تقررات کے اہل ہیں ان میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے کیونکہ سابق میں درخواستوں کی طلبی کے بجائے حکومت کی جانب سے وائس چانسلرس کے تقررات کا اعلان کردیا جاتا تھا اور درخواست گذاروں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق درخواست داخل کرنے کا موقع بھی نہیں دیاجارہا تھا۔ریاست کی سرکردہ جامعہ میں خدمات انجام دے رہے ایک پروفیسر جو وائس چانسلر کے عہدہ کے لئے درخواست گذار بھی ہیں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی جامعات میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور جامعات کو عالمی معیار کے مطابق فروغ دینے کے اقدامات کے طور پر جو کاروائیاں انجام دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے وہ لائق ستائش ہیں۔ پروفیسرس کا کہناہے کہ تشکیل تلنگانہ سے قبل جامعات کے وائس چانسلرس کے تقرر کے لئے حکومت کی جانب سے یو جی سی کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق درخواستیں طلب کی جاتی تھیں لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد صورتحال میں یکسر تبدیلی کے ذریعہ اس عمل کو بند کردیا گیا تھا۔3