حکومت کا اہم فیصلہ ، احکامات کی اجرائی۔ چیف منسٹر کے ایک اور وعدہ پر عمل آوری
حیدرآباد۔/30 جنوری، ( سیاست نیوز) حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرکے یونیورسٹیز میں برسرکار پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ عمر کو 60 سال سے بڑھا کر 65 سال تک توسیع دی ہے اور احکامات بھی جاری کردئے ۔ تلنگانہ ہائیر ایجوکیشن کونسل نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے کر ملک کی مختلف ریاستوں میں پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ عمر کا مطالعہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ عمر کو بڑھا کر 65 سال کرنے کی سفارش کی تھی جس کو حکومت نے قبول کیا اور احکامات بھی جاری کردیئے گئے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حدود میں 12 یونیورسٹیز ہیں جن میں پروفیسرس کی 2817 منظورہ جائیدادیں ہیں جن میں 357 پروفیسرس خدمات انجام دے رہے ہیں اور 2060 پروفیسرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ہر ماہ مختلف یونیورسٹیز سے اوسطاً 2 پروفیسرس ریٹائر ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر عثمانیہ ایجوکیشن شعبہ میں دو پروفیسرس باقی رہ گئے ہیں انہیں ہی تمام یونیورسٹیز کے بورڈ آف اسٹڈیز کے ڈین اور چیرمین کے طور پر خدمات انجام دینا پڑ رہا ہے۔ مسابقتی امتحانات کے کنوینر مقرر کرنے کیلئے ضرورت کے مطابق پروفیسرس موجود نہیں ہیں جس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد یونیورسٹیز کے پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے یونیورسٹیز کے پروفیسرس کی ریٹائرمنٹ عمر میں اضافہ کا وعدہ کیا تھا۔2