یوپی کے غیرمسلمہ مدارس میں جدیدنصاب کی شمولیت

   

ذمہ داروں کو ہائی اسکول کی تعلیم کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت

لکھنؤ: اتر پردیش کے ایسے مدارس جو دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے تحت چلائے جاتے ہیں، اب وہ تسلیم شدہ مدارس کے نصاب کے مطابق خود کو تیار کرنے کے لیے تبدیلیاں شروع کریں گے۔ جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری حافظ قدوس ہادی جو کانپور کے شہر قاضی بھی ہیں، انھوں نے کہا کہ غیر مسلمہ مدارس کے ذمہ داروں سے طلبہ کے لیے ہائی اسکول کی تعلیم کا منصوبہ بنانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں جمعیت علمائے ہند علما کی ایک تاریخی اور ملک گری تنظیم ہے۔مدارس کے ذمہ داروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ نصاب میں ریاضی، انگریزی، کمپیوٹر، ہندی اور دیگر مضامین شامل کریں۔ حافظ قدوس ہادی نے کہا کہ ہم نصاب میں تبدیلی لانے پر کام کر رہے ہیں۔ مدارس کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس عنقریب طلب کیا جائے گا۔ مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے ذریعہ تسلیم شدہ مدارس پہلے ہی غیر تسلیم شدہ مدارس کے برعکس اپنے طلبہ کو مختلف مضامین پڑھا رہے ہیں۔تسلیم شدہ مدارس نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) کا نصاب نافذ کیا ہے جہاں طلبہ کے لیے سات مضامین لازمی ہیں۔ دوسری طرف غیر تسلیم شدہ مدارس دارالعلوم دیوبند اور بریلی شریف کے نصاب کی حد تک محدود ہیں۔ حال ہی میں ریاستی حکومت نے پورے اترپردیش میں نجی، غیر امدادی اور غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کیا۔ جس کے بارے میں ذمہ داران مدارس نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔