کیف : یوکرینی سرحد سے ملحقہ علاقے میں ایک اور روسی ٹرین کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ہے جو انجن سمیت پٹری سے اتر گئی۔اے ایف پی کے مطابق واقعے کو کیف کی جانب سے مسلسل دوسرے روز ایک غیرمتوقع جوابی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔کریمیا پچھلے چند روز کے دوران حملوں کا نشانہ رہا ہے۔ یہ وہی علاقہ جس کو 2014 میں روس نے اپنے ساتھ شامل کیا تھا۔گزشتہ تین روز کے دوران دھماکہ خیز مواد کے ذریعے دوسری ٹرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح کریمیا کے علاقے سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک مشتبہ ڈرون نے ایک آئل ڈپو کو نشانہ بنایا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور بجلی کی لائنز بھی جل گئیں۔یوکرین کی جانب سے حملوں میں تیزی ایک ایسے وقت میں سامنے اآرہی ہے جب روس نو مئی کو سوویت یونین کی فتح کے دن کا جشن منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ تقریب ولادیمیر پوتن کے دور حکومت میں ایک مرکزی جشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔دوسری جانب یوکرین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ چند ہفتے قبل اس کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ موسم بہار میں حملوں کے حوالے سے تیاری کر رہا ہے۔روسی علاقے مغربی بریانسک کے گورنر الیگزنڈر بوگوماز کا کہنا ہے کہ ’ٹرین کو ایک ناقل شناخت دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا۔‘’دھماکہ خیز مواد سنزسٹکیا سٹیشن کے قریب پھٹا۔ بریانسک کی آبادی تین لاکھ 70 ہزار کے قریب ہے اور اس کی سرحدیں بیلاروس اور یوکرین کے ساتھ لگتی ہیں۔ْان کا مزید کہنا تھا کہ ’دھماکے کے نتیجے میں انجن اور کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جبکہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘خیال رہے پیر کو بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوا تھا اور دھماکے کے نتیجے میں اونیچا کے علاقے میں ٹرین پٹی سے اتر گئی تھی اور یہ علاقہ بھی یوکرینی سرحد سے ملحقہ تھا۔روس جو ایک برس سے جاری جنگ کے دوران خود کو ’محفوظ‘ سمجھ رہا ہے، نے پہلی بار منگل کو کچھ سکیورٹی خطرات کو تسلیم کیا تھا۔