یوکرینی علاقوں کاغیر قانونی الحاق، روس کی عالمی مذمت

   

ماسکو : ناٹو ممالک اور یوکرین کے دیگر اتحادیوں نے ملک کے کچھ حصوں پر روس کے غیر قانونی الحاق کی شدید مذمت کی ہے۔ بعض ممالک نے ماسکو کے خلاف نئے تعزیری اقدمات کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز روس کی طرف سے یوکرین کے چار علاقوں کو الحاق کا اعلان کیے جانے کے ساتھ ہی اس اقدام کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یوکرین کے قریبی حامی اس حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف واضح کرچکے تھے۔ یورپی یونین نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے روس کے اس اقدام کی اسی وقت مذمت کردی تھی جب الحاق سے متعلق روسی صدر ولادیمیر پوتن کا خطاب ابھی جاری تھا۔ 27 ممالک پر مشتمل اس گروپ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم اس غیر قانونی ‘ریفرنڈم‘ کو نہ تو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی کبھی تسلیم کریں گے، جسے روس نے یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مزید خلاف ورزی کے لیے بہانہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اور نہ ہی اس ریفرنڈم کے غلط اور غیر قانونی نتائج کو تسلیم کریں گے۔ ناٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اسٹولٹن برگ نے برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ زمین کا ایک غیر قانونی اور ناجائز قبضہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد طاقت کے ذریعے یورپی سرزمین پر قبضے کی یہ سب سے بڑی کوشش ہے۔ یورپی یونین نے روس پر پابندیوں کے اپنے اگلے منصوبہ بند پیکج کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا جو کہ فی الحال زیر غور ہے، تاہم کہا کہ وہ روس کے غیر قانونی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پابندیوں کو مضبوط بنانے کے عز مپر قائم ہے۔ نئے تعزیری اقدامات میں روسی مصنوعات کی درآمد پر مزید پابندیاں، فوج کے لیے استعمال ہونے والی کلیدی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندی، تیل کی قیمت کی حد کے لیے قانونی بنیاد اور یورپی یونین کے شہریوں پر روسی سرکاری کمپنیوں کی گورننگ باڈیز میں شرکت پر پابندی شامل ہو سکتی ہے۔