یوکرین تنازعہ کو حل کرنے چین کا روس کیساتھ تعاون جاری

   

بیجنگ : چین نے کہا ہے کہ وہ یوکرین میں جاری تنازعہ کے حل میں تعمیری تعاون کرنے کے لیے روس کے ساتھ تعاون اور تال میل جاری رکھے گا۔چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے یہ بات جمعرات کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ وزارتی اجلاس جمعرات کو ہندوستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ہوا۔چینی وزارت خارجہ نے جمعہ کو مسٹر کن کے حوالے سے کہا کہ “چین امن مذاکرات کو فعال طور پر فروغ دے گا اور بحران کے سیاسی حل میں حقیقی کردار ادا کرنے کے لیے روس کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔”وزارت خارجہ نے لاوروف کے حوالے سے کہا کہ روس اس دستاویز کو بہت اہمیت دیتا ہے جس میں یوکرین تنازعہ کے سیاسی حل پر چین کے موقف کا خاکہ پیش کیا گیا ہے اور بیجنگ کے بنیادی موقف سے اتفاق ہے ۔ وزارت نے لاوروف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو بیجنگ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے ۔وزارت کے بیان کے مطابق، دونوں فریقوں نے ایشیا پیسیفک خطے میں تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے ، ‘نئی سرد جنگ’ کی مخالفت کرنے اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ ماسکو اور بیجنگ نے بین الاقوامی تنظیموں اور بلاکس جیسے کہ برکس، گروپ آف ٹوئنٹی (جی 20)، اقوام متحدہ اور ایس سی او کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی تیاری کی بھی تصدیق کی تاکہ ‘ہر قسم کی بالادستی کی مخالفت’کی جا سکے ۔فروری میں چین نے ‘یوکرین بحران کے سیاسی حل پر چین کا موقف’ کے عنوان سے ایک 12 نکاتی دستاویز جاری کی تھی، جس میں تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام، دشمنی کے خاتمے اور ماسکو اور کیف کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ اس منصوبے کی کچھ شقیں امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں “اگر مغرب اور کیف اس کے لیے تیار ہیں۔”