خاتون صحیفہ نگار پر ٹوٹ پڑے اور چلاتے ہوئے گالی گلوج کی
واشنگٹن ۔/25 جنوری،( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو آج یہاں اسوقت شدید برہمی کی حالت میں بے قابو ہوگئے جب ایک خاتون صحیفہ نگار نے دوران انٹرویو ان سے یوکرین کے مسئلہ پرانتظامیہ کے موقف کے بارے میں سوال کیا۔ واضح رہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف زیر دوراں تحریک مواخذہ میں یوکرین وہ ملک ہے جس کو تنازعہ کے سبب نمایاں طور پر موضوع بحث بنایا جارہا ہے۔ یہ عجیب و غریب صورتحال آج اس وقت پیدا ہوئی جب صبح کی اولین ساعتوں میں این پی آر ریڈیو کی خاتون صحیفہ نگار نے پامپیو سے انٹرویو کا آغاز کیا جس میں زیادہ تر ایران ہی موضوع گفتگو رہا لیکن صحیفہ نگار میری لوئیس کیلی نے درمیان میں موضوع سے ہٹ کر یوکرین کے بارے میں سوال کرڈالا جس کے ساتھ ہی پامپیو بے قابو ہوگئے۔ ایک مرحلہ پر چیخنے چلانے لگے اور حالت برہمی میں ایسے الفاظ ادا کئے جو ناقابل اشاعت ہیں۔ اس خاتون صحیفہ نگار نے کہا کہ پامپیو سے انہوں نے سوال کیا تھا کہ آیا محکمہ خارجہ کے کسی عہدیدار نے یوکرین کیلئے امریکی سفیر میری یوانووچ سے معذرت خواہی کی ہے جس پر پامپیو نے جواب دیا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ جو کچھ کہنا تھا بس یہی تھا، آپ کا شکریہ۔ ان الفاظ پر انٹرویو ختم ہوگیا اور اناؤنسر نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ وہ وزیر خارجہ پامپیو کی شکر گذار ہیں کہ انہوں نے میرے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ایک مرحلہ پر کمرہ سے باہر نکلنے سے قبل مجھ پر برہمی کی حالت پر ٹوٹ پڑے اور تلخ الفاظ استعمال کیا۔ اتنا ہی نہیں پامپیو نے اپنے عملے کے ایک کارکن کو طلب کیا اور ان کو ایک ایسا عالمی نقشہ لانے کی ہدایت کی جس پر ممالک کے نام درج نہ ہوں۔ چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق نقشہ پیش کیا گیا اور پامپیو نے میری لوئیس کیلی سے یہ دریافت کیا کہ اس نقشہ میں یوکرین کہاں ہے۔ کیلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالکل صحیح مقام پر یوکرین کی نشاندہی کی لیکن پامپیو نے اس کے برعکس ادعا کیا۔