ماضی میں ایسے دور گذارے ہیں کیا کہیں
بھاتی نہیں ہے کہ آج کی کوئی فضا مجھے
روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ اور جنگ کے آغاز کے بعد سے سارے ہندوستان میں اپنے طلبا کے تعلق سے تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان بھر سے تقریبا 20 ہزار ہندوستانی طلبا ہیں جو یوکرین کے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ زیادہ تر طلبا میڈیکل تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم ہندوستان کی بہ نسبت سستی اور کم خرچ ہے اسی لئے جو طلبا ہندوستان میں بھاری بھرکم فیس ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہوتے وہ اس کیلئے یوکرین کا رخ کرتے ہیں۔ کئی برسوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے اور اب تک اطمینان کے ساتھ ہندوستانی طلبا یوکرین میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ تاہم چند دن پہلے سے یوکرین میں حالات اچانک ہی بدلنے شروع ہوگئے تھے اور کشیدگی پیدا ہو رہی تھی ۔ یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے دوران یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ یوکرین پر روس کی جانب سے کسی بھی وقت حملہ کیا جاسکتا ہے ۔ ان اندیشوں کے بعد طلبا میں بے چینی پیدا ہونی شروع ہوگئی تھی کیونکہ حکومت ہند نے بھی طلبا کو عارضی طور پر یوکرین واپس ہوجانے کا مشورہ دیا گیا تھا ۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہندوستان واپسی کیلئے فضائی کرایوں میں دوگنے سے زیادہ اضافہ کردیا گیا تھا ۔ انتہائی مشکل کے ساتھ یوکرین میں اپنی تعلیم جاری رکھنے والے طلبا کو وطن واپس لانے کیلئے مفت خدمات فراہم کرنے کی بجائے کرائے وصول کئے گئے اور وہ بھی دوگنے سے زیادہ ۔ جو طلبا اس قدر بھاری کرایہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں تھے وہ وہیں یوکرین میں پھنس گئے ۔ اب جبکہ یوکرین میں جنگ شروع ہوچکی ہے اور روس کی جانب سے جارحیت کے ساتھ شدید حملے کئے جا رہے ہیں اور رہائشی علاقے بھی نشانہ پر ہیں ایسے میں ان طلبا کی واپسی ایک سنگین اور اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ حالانکہ حکومت اب ان کی واپسی کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور ایک پرواز کو پولینڈ سے روانہ بھی کیا جاچکا ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں پھنسے ہوئے طلبا و طالبات کو واپس لانے کیلئے ایک منظم کوشش اور عزم و حوصلے کی ضرورت ہے ۔
جنگ کے جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ امید فضول ہی ہوسکتی ہے کہ جنگ جلدی ختم ہوگی یا پھر حالات کے جلد معمول پر آنے کا کوئی امکان ہے ۔ یہاںحملے ابھی تو شروع ہوئے ہیں اور روس کے عزائم کیا ہیں یا یوکرین کا دفاعی نظام کس حد تک مستحکم اور مضبوط ہے اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ ایسے میں ہزاروں کی تعداد میں وہاں پھنسے ہوئے طلبا کو لانے کیلئے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اور پوری حکمت عملی کے ذریعہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اس میں یوکرین میں مقامی کارکنوں کے علاوہ بین الاقوامی امدادی گروپس اور یوکرین کے پڑوسی ممالک کی مدد بھی حاصل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ یوکرین کے پڑوسی ملک پولینڈ کے ذریعہ ہندوستانی طلبا کو واپس لانے میں مدد مل سکتی ہے اور اسی جانب پہل ہوئی ہے ۔ ایک پرواز ائرا نڈیا کی پولینڈ کے دارالحکومت بخارسٹ سے ہندوستان کیلئے روانہ ہوچکی ہے ۔ تاہم یہاںسے صرف وہی طلبا واپس لائے جاسکتے ہیں جو اس سرحد کے قریب ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے پڑوسی ملکوں کی مدد بھی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ جو طلبا روس کی سرحدات کے قریب ہیں یا پھر دارالحکومت کیف میں اور اس کے اطراف و اکناف میں مقیم ہیں وہاں حالات مشکل ہوسکتے ہیں اور اسی کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ حملوں کی وجہ سے طلبا برادری میں خوف اور سراسیمگی پائی جاتی ہے ۔ وہ لوگ بھوک اور پیاس کا بھی شکار ہوسکتے ہیں اور ان کے حوصلوں کو برقرار رکھنا بھی ایک مشکل امر ہی کہا جاسکتا ہے ۔
حکومت ہند کو فوری اپنے تمام دستیاب امکانات کا استعمال کرتے ہوئے ان طلبا کو ہندوستان واپس لانے کیلئے سرگرم ہوجانا چاہئے ۔ جنگ ختم کرنے کی سمت کوششیں ابھی شروع نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کس حد تک طول پکڑے گی ۔ حکومت ہند کی اولین ترجیح طلبا کی واپسی ہونی چاہئے ۔ اس کیلئے یوکرین کے جو چینلس دستیاب ہیں ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ خود روس کی مدد بھی لی جاسکتی ہے ۔ پڑوسی ممالک سے رابطے کئے جاسکتے ہیں اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے ان طلبا کو واپس لانا چاہئے ۔ ان کے حوصلے ٹوٹنے سے پہلے ان کی مدد کیلئے سبھی گوشوں کو سرگرم ہوجانے کی ضرورت ہے ۔
تلنگانہ میں بی جے پی کے جارحانہ تیور
گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں چار حلقوں سے کامیابی اور پھر ریاستی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دو حلقوں سے کامیابی کے بعد بی جے پی کو تلنگانہ میں امید کی کرن دکھائی دینے لگی ہے ۔ جنوبی ہند میں انتہائی کمزور موقف رکھنے والی بی جے پی کرناٹک کے بعد اب تلنگانہ میں اپنے موقف کو مستحکم کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ تلنگانہ میں بی جے پی نے تمام قائدین کو متحرک کردیا ہے ۔ ریاست کیلئے خصوصی منصوبے تیار کرتے ہوئے ان پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ بوتھ کی سطح پر کارکنوں کو سرگرم کیا جا رہا ہے ۔ خصوصی حکمت مائیکرو سطح پر تیار کرتے ہوئے حکومت کو چیلنج دیا جا رہا ہے ۔ یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست میں اگر اسمبلی انتخابات ہوتے ہیں تو اصل مقابلہ بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان میں ہوگا اور کانگریس کہیں تیسرے نمبر پر رہے گی ۔ ریاست میں اپنے سیاسی استحکام کیلئے بی جے پی نے جو منصوبے تیار کئے ہیں وہ جارحانہ تیور کے ہیں۔ بی جے پی کیلئے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں حالات کو بگاڑنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ پارٹی نے اپنے کارکنوں کو ہر صورت کیلئے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے اور مرکزی قیادت کی تائید و حمایت کے ساتھ ریاستی قائدین کے حوصلے بھی بلند ہوگئے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے استحکام حاصل کرنے جدوجہد کرنا ہر جماعت کا بنیادی حق ہے اور یہ جمہوریت کا حصہ ہے تاہم اس کیلئے جارحانہ تیور سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوامی مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھتے ہوئے ان پر کام کیا جانا چاہئے ۔ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔
