واشنگٹن ؍ ماسکو : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ روسی صدر کو اس معاملہ میں کوئی دلچسپی ہے یا نہیں۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کو تقریبا تین سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے۔ روسی فوج یوکرین میں کئی محاذوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ یوکرین کو جنگی ہتھیاروں اور افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے اور امریکہ کی جانب سے کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر یوکرین کی جنگی امداد روکی جاسکتی ہے۔ روس اور مغربی ماہرین کا ماننا ہے کہ روسی صدر اپنا ہدف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ روس پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد کر دیں۔ ٹرمپ نے اپنی ایک انتخابی مہم کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ روس یوکرین تنازعہ 24 گھنٹوں کے اندر حل کر سکتے ہیں۔ بعد تاہم انہوں نے ان چوبیس گھنٹوں کو چھ ماہ میں تبدیل بھی کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کریملن کے ساتھ اس معاملہ پر ‘انتہائی سنجیدہ‘ گفتگو کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور روسی صدر جلد ہی اس جنگ کے خاتمہ کے لیے ‘اہم قدم‘ اٹھائیں گے۔ اس جنگ میں روس کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روس کو فوجی اموات کے علاوہ مغربی پابندیوں اور معیشت میں گراوٹ جیسے معاملات کا سامنا ہے۔ لیکن بہرحال روسی معیشت مکمل زبوں حالی کا شکار نہیں ہوئی۔ پوٹن نے اس دوران تمام مخالف آوازوں کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن کیا اور اسی لیے انہیں جنگ کے خاتمہ کے حوالے سے ملکی سطح پر کسی بھرپور دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔ یوکرین سے متعلق بات چیت، یوکرین کے بغیر؟ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پوٹن کییف کو معاملات سے باہر رکھ کر ٹرمپ کے ساتھ بہ راہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ ہم کسی کو یوکرین کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرنے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کی آزادی اور خودمختاری تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی کوئی بھی امن ڈیل دیگر آمرانہ سوچ رکھنے والے رہنماؤں کے لیے بھی ایک خطرناک مثال قائم کرے گی۔