یوکرین کیخلاف روسی کارروائی کا پہلے سے علم نہیں تھا:چین

   

واشنگٹن: امریکہ میں چین کے سفیر چھن گانگ نے کہا ہے کہ چین کو یوکرین کے خلاف روس کے فوجی آپریشن کے منصوبے کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا اور نہ ہی بیجنگ نے اس کی حمایت کی۔واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے ایک مضمون میں چینی سفیر نے کہا کہ وہ یہ بات ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ دعوے کہ چین کو اس کا پتہ تھا کہ یا اس نے جنگ کی خاموش حمایت کی،خالصتا غلط معلومات پر مبنی ہیں۔چھن نے اپنے مضمون کے حوالے سے کہا کہ اس کا مقصد امریکی عوام کو یوکرین تنازع پر چین کے موقف بارے واضح کرنا اور کسی قسم کی غلط فہمیوں اور افواہوں کو دور کرنا ہے۔سفیر نے کہا کہ یہ تمام دعوے صرف الزام تراشی اور چین کو بدنام کرنے کے لیے ہیں۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ یوکرین میں 6ہزارسے زیادہ چینی شہری موجود ہیں اور چین یوکرین اور روس دونوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، چھن نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ چین کے لیے اچھا نہیں اور یہ کہ اگر چین کو اس کے بارے میں پہلے سے پتہ ہوتا تو وہ اس کو روکنے کی پوری کوشش کرتا۔