یوگیش راج۔ بلند شہر تشدد کا اصل مجرم ضمانت پر رہا

,

   

یوگیش راج بجرنگ دل کارکن ہے

آلہ اباد۔ مذکورہ الہ آباد ہائیکورٹ نے بجرنگ دل لیڈر کی ضمانت منظور کرلی جو 2018کے بلند شہر تشدد واقعہ جس میں ایک پولیس افیسر او رایک شہری کی موت واقع ہوگئی تھی کااصل ملزم ہے۔

جسٹس سدھارتھ نے چہارشنبہ کے روز یوگیش راج کی ضمانت کی عرضی کو منظوری دی تھی۔راج کے وکیل انند پٹیل تیواری نے دلیل پیش کی کہ ان کے موکل کاتشدد میں کوئی رول نہیں ہے اور کیس کے دیگرملزمین کو ضمانت مل گئی ہے۔

مذکورہ ریاستی حکومت کے اسٹانڈنگ کونسل نے ضمانت کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ راج پر سیڈیشن کا مقدمہ درج ہے۔

اسی سال جنوری3کے روز یوگیش راج کو گرفتار کیاگیاتھا۔ ہجومی تشدد کے اس واقعہ کا دوسرا ملزم شیکھر اگروال پچھلے ماہ بلند شہر جیل سے رہائی کے بعد گھر واپسی کے موقع پر ہیرو کی طرح اس کا استقبال کیاگیا۔

سوشیل میڈیاپر ایک ویڈیو وائیرل ہورہا ہے جس میں اگروال کے حامی اس کی گلپوری کررہے ہیں اور بھارت ماتا کی جائے اور وندے ماترم جیسے نعرے لگاتے دیکھائی دے رہے ہیں۔

اگروال ان چھ ملزمین میں شامل ہے جو آلہ اباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد جیل سے رہاہوئے ہیں۔پچھلے سال 2ڈسمبر کے روز مہاؤ گاؤں کے قریب میں گائے ذبیحہ کا مبینہ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس پوسٹ کے باہر سیانہ میں تشدد پیش آیاتھا۔

چنگرورتی کے ساکن سومت نامی ایک نوجوان پولیس کی مبینہ فائرینگ میں ہلاک ہوگیاتھا جس کے بعد برہم ہجوم نے سیانہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو گھیرلیااور مبینہ طور پر انہیں گولی مارہلاک کردیا۔

مہاگاؤں کے قریب سڑک پر میویشی کے باقیات دستیاب ہونے کے بعد چنگرورتی پولیس اسٹیشن کے بعد تشدد رونما ہونے کے ایک واقعہ میں سیانہ پولیس اسٹیشن میں 27نامز د اور 50سے 60نامعلوم لوگوں کے خلاف ایک ایف ائی آر درج کی گئی تھی۔