مودی حکومت اب پارلیمنٹ میں زبردستی منظور کرائے گئے نئے قوانین کا استعمال کررہی ہے: جے رام رمیش
نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے منگل کے روز نریندر مودی حکومت پر یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی) کے لین دین پر چارجز عائد کرنے کا راستہ کھولنے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ترمیم شدہ پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007ء کے تحت ایک حالیہ نوٹیفکیشن کے ذریعے 2,000 روپے سے زائد کی منتقلی پر فیس کے خلاف واضح قانونی تحفظ کو ختم کر دیا گیا ہے ۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اس صورتحال نے ان کی 6 اگست 2026ء کی اس تحریری انتباہ کو درست ثابت کر دیا ہے جس میں انہوں نے یوپی آئی لین دین پر فیس کا نظام لاگو کیے جانے کے امکان پر تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس وقت اس معاملے پر مرکزی وزیرِ خزانہ نِرملا سیتارمن نے بھی اپنا ردِعمل دیا تھا۔ جے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا کہ جیسا کہ ہم نے 6 اگست 2026ء کو خبردار کیا تھا، جس پر خود وزیرِ خزانہ نے جواب دیا تھا، مودی حکومت اب پارلیمنٹ سے زبردستی منظور کرائے گئے نئے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے یوپی آئی پر چارجز لینے کا عمل شروع کر رہی ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں بینکوں اور ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو صرف 2,000 روپے سے کم کی یوپی آئی منتقلی پر چارجز وصول کرنے سے روکا گیا ہے ، لیکن اس حد سے زیادہ کے لین دین پر فیس نہ لگانے کی کوئی واضح قانونی پابندی فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حد سے اوپر کی کسی بھی رقم کی منتقلی کے لیے کوئی واضح قانونی تحفظ موجود نہیں ہے ، جس کے باعث زیادہ رقم کے یوپی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کا قانونی راستہ ہموار ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ 2,000 روپے کی اس حد کو بھی مستقبل میں کسی دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے ، جس سے صارفین کو یہ مستقل قانونی ضمانت حاصل نہیں رہے گی کہ یوپی آئی ادائیگی ہمیشہ مفت رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے لیے یوپی آئی لین دین پر فیس ادا کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ۔ کل کو ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے اس حد کو بھی بدلا جا سکتا ہے – اب قانون میں کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔ جے رام رمیش نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ مستقبل کے چارجز کا دائرہ روزمرہ کے ایک شخص سے دوسرے شخص (پرسن ٹو پرسن) کی رقم کی منتقلی تک پھیلایا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا، “جہاں تک ہم جانتے ہیں، حکومت روزمرہ کی آپسی منتقلی پر بھی چارج عائد کر سکتی ہے ۔”
یوپی آئی ہندوستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن کر ابھرا ہے ، جو موبائل ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری بینک ٹو بینک لین دین کو آسان بناتا ہے ۔ اس نظام کی تیز رفتار توسیع کا بڑا سبب بلا معاوضہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی دستیابی رہی ہے ، اور عام صارفین سے براہِ راست کوئی چارج نہیں لیا جاتا۔