یو پی انتخابات ‘عوام کا امتحان

   

Ferty9 Clinic

وہ آئیں، نیند آئے کہ خوابِ اجل ہی آئے
کس کس کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
اترپردیش اسمبلی انتخابات کا بگل کسی بھی وقت بج سکتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں پہلے ہی اپنی اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ کوئی جماعت دوسری چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک اتحاد کی شکل اختیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تو کوئی جماعت اپنے ہتھکنڈے آزمانے کی تیاریاںشروع کرچکی ہے ۔ کوئی جماعت مسلسل عوام سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے سیاسی قدم جمانے کی جگہ تلاش کرنا چاہتی ہے تو کوئی خاموشی کے ساتھ اپنے روایتی ووٹ بینک کو مستحکم کرنے اور اس کے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے ۔ جو آثار و قرائن ہیں ان کے مطابق آئندہ دو ماہ میں اترپردیش کے اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کسی بھی وقت انتخابی اعلامیہ کی اجرائی عمل میں آسکتی ہے ۔ اس سلسلہ میں دفتر وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن کے مابین مشاورت کی بھی اطلاعات مل رہی ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں مکمل آزادی سے اور کسی کے مشورہ کے بغیر کام کرنا چاہئے ۔ خود دفتر وزیر اعظم کو بھی ان امور میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ الیکشن کمیشن ایک آزادانہ اور خود مختار ادارہ ہے ۔ تاہم بی جے پی کے اقتدار میں ایسے تمام ادارے اپنی آزادی سے محروم ہوچکے ہیں اور وہ مسلسل دباؤ میں یا کسی کے اثر میں کام کرنے لگے ہیں اور الیکشن کمیشن کو بھی اس معاملے میں کوئی استثنی حاصل نہیں ہے ۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل اس طرح کی ملاقات کئی سوال پیدا کرتی ہے ۔ سیاسی جماعتیں جہاں اپنی مصروفیات میں مگن ہیں اور اپنے انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں وہیں کچھ گوشوں کی جانب سے عوام کو اصل اور بنیادی مسائل سے بھٹکانے کی ہتھکنڈے بھی آزمانے شروع ہوگئے ہیں۔ اپو زیشن جماعتیں جہاں بنیادی مسائل کو عوام کے درمیان لاتے ہوئے ان کی توجہ مبذول کروانا چاہتی ہیں اور انہیں روزگار ‘ ملازمتوں ‘ ملک کی معیشت اور مہنگائی سے واقف کروانے میں مصروف ہیں تو وہیں بی جے پی کی جانب سے پھر نفاق اور نفرت کو ہوا دینے کے ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیںتاکہ ان مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے ۔
اترپردیش کے اسمبلی انتخابات ملک میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دہلی کے اقتدار تک کا راستہ اترپردیش سے ہو کر گذرتا ہے ۔ ہر جماعت کو یہاں کی سیاسی اہمیت کا بھی اندازہ ہے ۔ایسے میں سیاسی جماعتوں کے ہتھکنڈوں اور ان کی پالیسیوں و حکمت عملی سے قطع نظر ریاست کے رائے دہندوں اور ووٹرس کی ذمہ داریوں میںمزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ان کی سیاسی بصیرت کو یہاں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو اپنے بنیادی مسائل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ فرقہ وارانہ منافرت اور نزاعی مسائل میں الجھنے اور اپنی اور ریاست کی ترقی کو متاثر کرنے کی بجائے ترقیاتی امورکو ترجیح دیتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔ ایسی طاقتوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ملک کے سکیولر کردار کو مسخ کرنے پر آمادہ ہیں۔ ایسے عناصر کو مسترد کیا جانا چاہئے جو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور عوام کو سہولیات میسر کروانے کی بجائے ہندو ۔ مسلم کارڈ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں۔ عوام کو مہنگائی سے راحت دلانے کی بجائے مندر ۔ مسجد کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار اور ملازمتیں فراہم کرنے کی بجائے قبرستان ۔ شمشان کے تذکرے کرتے ہیں۔ ہولی اور دیوالی کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سماج میں تفرقہ پیدا کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے عناصر ملک اور ریاست کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میںرکاوٹ ہوتے ہیں۔
اترپردیش کے عوام کو اپنے ووٹ ے ذریعہ ملک کے سیاسی مستقبل کی راہ کا تعین کرنا ہے ۔ انہیں اپنے سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارے ملک کیلئے مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں ریاستی حکومت نے ان کیلئے کیا کچھ کیا ہے اور گذشتہ سات برسوں میں مرکزی حکومت نے سوائے جملہ بازی کے اور کچھ کیا بھی ہے یا نہیں۔ انہیں مہنگائی کو ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ سماج میں نفرت پھیلانے کی کوششوں کا شکار ہوئے بغیر نوجوانوں کے مستقبل کی خاطر ایسے امیدواروں کو منتخب کرنا ہوگا جو ان کے اور ریاست کیلئے اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ جذباتی نعروں اور فرقہ پرستی کے ایجنڈہ کا شکار ہوئے بغیر نوجوان نسل کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنے ووٹ سے ملک کیلئے مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور بی جے پی ایم پی غصہ سے بے قابو
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ ایک ریسلر پر غصہ اتار بیٹھے اور انہوں نے اسے تھپڑ رسید کردئے ۔ عوامی نمائندوں کا اس طرح کا رویہ انتہائی مذموم اور قابل افسوس ہے ۔ ایک نوجوان ریسلر ریسلنگ شعبہ کی ہی ایک تقریب میںرکن پارلیمنٹ سے رجوع ہوا تھا کہ اسے بھی مقابلہ کا موقع دیا جائے ۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ انڈر 15 زمرہ میں حصہ لینا چاہتا تھا لیکن اس کی عمر زیادہ تھی ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ عوامی نمائندے ہوتے ہوئے عوام میں ہی اپنے غصہ پر قابو نہیں رکھ پائے اور بیچارے ریسلر کی پٹائی کردی ۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ بی جے پی کے عوامی منتخب نمائندے عوام پر ہی اپنی برہمی دکھاتے ہیں۔ کہیں انہیں پیٹا جاتا ہے تو کہیں ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے ۔ کہیں لاتیں تو کہیں گھونسے رسید کئے جاتے ہیں۔ عوامی نمائندے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل و شکایات کی سماعت کریں۔ کچھ لوگ اگر کسی بات پر مصر بھی ہوتے ہیں تب بھی انہیں انتہائی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنے کردار سے مثال قائم کرنی ہوتی ہے لیکن بی جے پی میں شائد اس اصول کو فراموش کردیا گیا ہے۔