خود میرے آنسوؤں کا وہ طوفان ہی سہی
پھولوں پہ میں نے دیکھی ہے شبنم کبھی کبھی
یو پی انتخابات ‘ مسائل سے بھٹکانے کی کوشش
اترپردیش انتخابات کیلئے عملا تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ حالانکہ باضابطہ طور پر ابھی چند ماہ کا وقت باقی ہے لیکن تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔بی جے پی اس معاملے میں سب سے آگے ہے اور سب سے پہلے اسی نے اپنی مہم شروع کی تھی ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے ریاست کے دورہ چند ماہ قبل ہی شروع کردئے تھے اور پھر اب وزیر اعظم بھی بارہا ریاست کے دورے کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی پراجیکٹس کے افتتاح کر رہے ہیں۔ تاہم جہاں تک ریاست کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا سوال ہے وہ مسلسل عوام کو مسائل سے بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے یا پھر آئندہ پانچ سال کے دوران انجام دئے جانے والے کاموں کے منصوبے بتانے کی بجائے عوام کو ایک بار پھر بھٹکاتے ہوئے ان کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کل ہی کہا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات قوم پرستوں اور قوم مخالفین کے درمیان ہونگے ۔ یہ در اصل عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے ۔ جو جماعتیں اترپردیش میں مقابلہ کرنے والی ہیں وہ سب ریاست میں برسر اقتدار رہ چکی ہیں۔ چاہے کانگریس ہو ‘ سماجوادی پارٹی ہو یا پھر بہوجن سماج پارٹی ہو سبھی نے ریاست میں حکومت کی ہے ۔ ان جماعتوں کے بی جے پی کے خلاف انتخابی مقابلہ کرنے کو قوم مخالف قرار دینا درا صل ملک کی جمہوریت اور دستور کی دھجیاںاڑانے کے مترادف ہے ۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی انفرادیت اور اعزاز ہے کہ ایک سے زائد جماعتیں انتخابات میں مقابلہ کرتی ہیں۔ عوام کے سامنے اپنی بات رکھتی ہیں۔ ترقیاتی منصوبوںاور پروگرامس پیش کرتی ہیں اور پھر عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ عوام جس جماعت پر چاہے کریں اور اس کو ووٹ دیں یہ ان کا حق ہے ۔ لیکن محض اپنے اقتدار کو بچانے یا اپنے نظریات سے اختلاف کرنے والوں کو قوم مخالف قرار دینا در اصل ملک کی جمہوریت اور انتخابی عمل کو کھوکھلا کرنے کی کوشش ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کوشش کوئی اور نہیںبلکہ ملک کی سب سے بڑی ریاست کے چیف منسٹر کر رہے ہیں۔
اکثر و بیشتر یہی ہوتا آیا ہے کہ بی جے پی جہاںکہیں انتخابات لڑنا چاہتی ہے وہاں ماحول کو خراب کیا جاتا ہے ۔ بنیادی اور اہمیت کے حامل مسائل پر کوئی مباحث نہیں ہوتے اور نہ ہی کوئی ترقیاتی منصوبہ یا پروگرام پیش کیا جاتا ہے ۔ صرف عوام کو اشتعال دلا کر ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسی ہی کوششیں اترپردیش میں بھی شدت اختیار کر رہی ہیں اور خود چیف منسٹر ایسا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حالات بی جے پی حکومت کے خلاف دکھائی دیتے ہیں اسی لئے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی مہم تیز ہوگئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حالانکہ عوام کے مسائل کو پیش کرتے ہوئے انتخابات کا ایجنڈہ طئے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کسانوں کے قرض معاف کرنے کی بات ہو رہی ہے ۔ بیروزگار نوجوانوں کو لاکھوں سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کے اعلان ہو رہے ہیں۔ خواتین کو نمائندگی دینے کی بات ہو رہی ہے ۔ معیشت کو مستحکم کرنے کا تیقن دیا جا رہا ہے لیکن بی جے پی اس ایجنڈہ کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کرچکی ہے ۔ ہندو ۔ مسلم ‘ قبرستان اور مندروں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ لا یعنی باتیں کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کے منصوبوں پر عمل ہو رہا ہے ۔ یہ سب کچھ عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے ایک بار پھر ان کے ووٹ بٹورنے اور اقتدار پر قابض رہنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے جس میں جمہوریت کے بنیادی مقاصد کو فراموش کردیا جا رہا ہے ۔
انتخابات لڑنے کیلئے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کا اختیار اور حق سبھی جماعتوں کو حاصل ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خود جمہوری عمل کو کھوکھلا کرنے کی کوششیںنہیںہونی چاہئیں۔ اپوزیشن کے دعووںا ور الزامات کا جواب دیا جانا چاہئے ۔ عوام کیلئے کئے جانے والے کاموں کی تفصیل پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئندہ کے منصوبوں سے عوام کو واقف کروایا جانا چاہئے ۔ ان کے مسائل کے تئیںحکومت کی سنجیدگی کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے لیکن اترپردیش میں مسائل کو دفن کرتے ہوئے صرف گمراہ کن پروپگنڈہ کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یو پی کے عوام کو ایسی طاقتوں سے چوکس رہتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔
