یو پی انتخابات ‘ گودی میڈیا کا ڈوغلا پن

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کا ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے ۔ انتخابی مہم میں شدت پیدا ہوگئی ہے حالانکہ ابھی تک بڑی ریلیوں اور جلسوں کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ سیاسی جماعتوںاور انتخابی امیدواروں کی جانب سے ورچول اجلاس منعقد کئے جا رہے ہیں اور گھر گھر پہونچ کر رائے دہندوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے ۔ تشہیر کے کئی ذرائع استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ہر امیدوار اپنے اپنے طور پر رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے اور انہیںراغب کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ایسے میں جہاںتک نام نہاد قومی میڈیا ( گودی میڈیا ) کا سوال ہے ان کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کچھ گوشوں سے جو سروے رپورٹس منظر عام پر لائی جا رہی ہیں ان میں بی جے پی کی اقتدار سے محرومی اور سماجوادی پارٹی کی اقتدار پر واپسی کے دعوے کئے جار ہے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف سروے ہیں او حقیقی نتائج کیا ہوسکتے ہیں ابھی سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ تاہم گودی میڈیا اور اس کے زر خرید تلوے چاٹو اینکرس کی بے چینی میں ایسا لگتا ہے کہ مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی بے چینی کی وجہ سے گودی میڈیا کی جانب سے انتخابات میں ماحول کو خراب کرنے کی مہم میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ عوام کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرنے ‘ حکومت کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی کا عوام کے سامنے جائزہ پیش کرنے ‘ جو انتخابی وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل پر سوال کرنے اور حقائق سے رائے دہندوں کو واقف کروانے کی بجائے ہندو۔ مسلم کی راگ الاپنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعہ عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ مندر ۔ مسجد کی تصاویر کو وائرل کرتے ہوئے انتخابات کے دوران عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اپوزیشن کے منصوبوںاور پروگرامس اور ان کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لانے اور حکومت کی ناکامیوں سے انہیں واقف کروانے کی جو اولین ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے نعرہ بازی والی رپورٹنگ کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ الفاظ اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لی جا رہی ہے ۔
سارا ملک اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے سے قبل عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہتھیلی میں جنت دکھائی جاتی ہے ۔ ان سے ایسے ایسے وعدے کئے جاتے ہیں جنہیں بعد میں محض ایک انتخابی جملہ قرار دے کر بری الذمہ ہونا پڑتا ہے ۔ روزگار کی فراہمی کے وعدے کرکے پکوڑے تلنے کے مشورے دئے جاتے ہیں۔ ہر گھر کو گیس فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے انہیں نالی سے گیس حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کیلئے کھاد اور بیج مہینگے کردئے جاتے ہیں۔ خواتین کو راحت دینے کے نام پر ان کی عزتوں اور عصمتوں سے کھلواڑ کرنے والوں کو بچایا جاتا ہے ۔ عصمت ریزی کا شکار خواتین کو رسواء کرنے کی انتہائی مذموم کوشش کی جاتی ہے ۔ بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ دینے والی پارٹی کے قائدین پر خود عصمت ریزی اور قتل کے سنگین الزامات عائد ہوتے ہیں۔ عوام کو راحت دینے کا وعدہ کرنے والی حکومت میں کورونا بحران کے دوران گنگا کے کنارے نعشیں بہتی ہیں ‘ نعشیں جلانے کیلئے لکڑی تک حکومتیں دستیاب نہیںکروا پاتی ہیں ‘ دواخانوں میں بستر عوام کو دستیاب نہیں تھے ‘ جنہیں بستر ملا انہیں سانس لینے آکسیجن نہیں مل رہی تھی ۔ ان مسائل پر سیر حاصل مباحث کرنے اور عوام کو ایک رائے قائم کرنے کا موقع فراہم کرنے کی بجائے گودی میڈیا بھی اقتدار کے اشاروں پر ناچنے کیلئے مجبور ہے اور عوام کو نزاعی مسائل میں الجھایا جا رہا ہے ۔
ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ملک کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی مارکٹنگ بڑی تیزی سے چل رہی ہے ۔ انتخابات کا ماحول بگاڑا جا رہا ہے اور صحافت یا جرنلزم کے معنی بدل کر رکھ دئے گئے ہیں۔ صرف تلوے چاٹنے کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ ایک چینل اگر کوئی چاپلوسی کرتا دکھائی دیتا ہے تو دوسرا اینکر اس سے دو قدم آگے بڑھنے کی تگ و دو میں جٹ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سے سوال نہیں پوچھا جا رہا ہے ۔ صرف اپوزیشن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ زر خرید میڈیا کے گودی اور تلوے چاٹو اینکرس کو اپنی روش بدلنی چاہئے یا پھر عوام کو ایسے اینکرس کے بہکاووں کو یکسر مسترد کردینا چاہئے ۔