یو پی اے کا وجود ختم ؟

   

Ferty9 Clinic

ایک ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ بی جے پی سے سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد و اتفاق ہونا چاہئے ۔ ایک بنیادی ایجنڈہ پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے سبھی کو مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا چاہئے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابنرجی صرف اپنی پارٹی کے سیاسی حلقہ اثر کو وسعت دینے میں زیادہ یقین رکھتی ہیں اور انہوں نے اس مقصد کی تکمیل کیلئے اپوزیشن کی صفوں میںاختلافات کو عملا ہوا دینی شروع کردی ہے اور اپوزیشن میں اتحاد پیدا کرنے کی بجائے اس کی صفوںمیں کمزوری پیدا کرنے میںمصرو ف ہوچکی ہیں۔ ممتابنرجی دعوی تو بی جے پی سے مقابلہ کا کر رہی ہیںلیکن در اصل وہ کانگریس کو نشانہ پر لئے ہوئے ہیں۔ عملا کانگریس کو ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دے رہی ہیں۔ ممتابنرجی کیلئے کانگریس نے ہمیشہ ہی نرم رویہ اختیار کیا تھا اور ان کے ساتھ اچھے روابط بھی رہے تھے ۔ خود ممتابنرجی کے بھی یو پی اے کی صدر نشین سونیا گاندھی سے بہتر روابط اور تعلقات تھے لیکن مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کراری شکست دینے کے بعد سے ممتابنرجی جارحانہ تیور اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں تو بی جے پی کو شکست دیدی لیکن وہ کانگریس کو نشانہ بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے میگھالیہ میں کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کو اچانک انحراف کرواتے ہوئے ترنمول کانگریس میںشامل کرلیا ۔ انہوںنے گوا میں سابق چیف منسٹر و سینئر کانگریس لیڈر لوئی زنہو فلیرو کو بھی ترنمول کانگریس میںشامل کرلیا ۔ بہار اور دوسری ریاستوں کے بھی کانگریس قائدین کو رجھانے میں لگی ہوئی ہیں اور ترنمول کے پرچم تلے جمع کر رہی ہیں۔‘ وہ اس طرح اپنے آپ کو تو مستحکم اور سیاسی اعتبارسے مضبوط کر رہی ہیں لیکن اس طرح وہ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے سب سے آگے رہنے والی جماعت کانگریس کو نشانہ بناتی جا رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے دہلی میں سونیا گاندھی سے ملاقات کرنے سے بھی گریز کیا تھا اور یہ سوال کردیا تھا کہ آیا جب کبھی وہ دہلی آئیں کیا سونیا گاندھی سے ملاقات کرنا ضروری ہے ؟۔
ممتابنرجی نے آج مہاراشٹرا ے دارالحکومت ممبئی میںاین سی پی کے سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی ۔ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اس موقع پر اپوزیشن کی صفوںمیں اتحادپیداکرنے کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا لیکن انہوں نے ایک ریمارک کرتے ہوئے اپنے اشارے واضح کردئے جس میں انہوں نے سوال کیا کہ یو پی اے کیا ہے ؟ اور یو پی اے کہاں ہے ؟ ۔ یہ سوال در اصل کانگریس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش ہے اور عملا یہ سوال یو پی اے کیلئے نہیں بلکہ کانگریس کیلئے کیا جارہا ہے ۔ این سی پی کے سربراہ شرد پوار اپوزیشن اتحاد میں کانگریس کی نہ صرف شمولیت بلکہ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کی اکثر و بیشتر وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوںنے ایک سے زائد مواقع پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے لیکن شائد وہ ممتابنرجی کو اس خیال پر متفق کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔ کانگریس سے ممتابنرجی کی ناراضگی کی وجہ ابھی تو کسی کو پتہ نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ممتابنرجی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے نتیجہ میں اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کے امکانات کو کم سے کم کرنے میںمصروف ہوگئی ہیں۔ اس سے جہاں ممتابنرجی کو سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے وہیں انتخابات میں بی جے پی بھی اس صورتحال کا استحصال کرسکتی ہے۔ اس پہلوکو ذہن میںرکھتے ہوئے اپوزیشن کے تمام جماعتوںکو ایک ایجنڈہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا اتحاد اور اتفاق اپوزیشن جماعتوں کے وجود کیلئے بھی بہت زیادہ ضروری ہے ۔
مغربی بنگال انتخابات میںترنمول کانگریس کی کامیابی کے سے یہ کہا جانے لگا تھا کہ ممتابنرجی کو آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کے وزارت عظمی امیدوار کے طور پر پیش کیا جائیگا ۔ وہ متحدہ اپوزیشن کا چہرہ ہونگی ۔ تاہم اب جو صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے اس میں اپوزیشن کا اتحاد ہی پارہ پارہ ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ جب اپوزیشن متحد ہی نہیںہو پائے گی تو پھر اس کے کسی چہرہ کو پیش کرنے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ۔ شرد پوار جیسے سینئر قائدین کو اس معاملے میں مصالحانہ اور مدبرانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپوزیشن کی صفوںمیں اتحاد کے امکانات متاثر ہونے کی بجائے مستحکم ہوسکیں اور آئندہ انتخابات میں بی جے پی کے سامنے ایک قابل لحاظ اپوزیشن کو پیش کرنے میں کامیابی مل سکے ۔