یو پی ‘ بی جے پی کی انتخابی تیاریاں

   

Ferty9 Clinic

ملک میںسیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میںاسمبلی انتخابات کیلئے اب وقت بہت کم رہ گیا ہے ۔ چند ماہ بعد وہاں ملک کی چار دوسری ریاستوں کے ساتھ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کو ریاست میںاپنے اقتدار کو بچانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ مسلسل کچھ واقعات ایسے ہوتے جا رہے ہیںجن کے نتیجہ میں پارٹی کیلئے مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ریاست میں جو بدترین حالات پیدا ہوئے تھے انہوںنے پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔ گنگا میں نعشیں بہنے لگی تھیں۔ گنگا کنارے دفن کی گئی نعشیں اوپر تیرتی ہوئی آگئیں۔ دواخانوں میں انتہائی بدترین حالات تھے ۔آکسیجن تک دستیاب نہیں ہو پا رہی تھی ۔مریضوں کی تعداد کے مطابق بستر دستیاب نہیں تھے ۔ ادویات کی الگ قلت تھی ۔ صحت کا انفرا اسٹرکچرپوری طرح سے ناکارہ ثابت ہوا ۔ اس کے بعد جب لاک ڈاون ہوا اور عوام کو روزگار اورروزی روٹی کے مسائل پیدا ہوگئے تب بھی ریاستی حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے تو ریاست میں قیادت کی تبدیلی پر بھی غور کیا تھا تاہم کٹر ہندوتوا چہرہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کی مرکزی قیادت آدتیہ ناتھ کو تبدیل کرنے کی جراء ت نہیں کرسکی ۔ وزیراعظم کے ایک انتہائی با اعتماد سمجھے جانے والے لیڈر کو ریاستی کابینہ میشامل کروانے کیلئے بھی بی جے پی قیادت کو صبرآزما مراحل سے گذرنا پڑا ۔ کسی طرح حالات کو پارٹی کے حق میں بہتر بنانے کی حکمت عملی پر کام کیا گیا اور یہ اطمینان کرلیا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ تاہم اچانک ہی کھیم پور کھیری میں مرکزی منسٹر آف اسٹیٹداخلہ کے فرزند پر کسانوں پر گاڑی دوڑا کر انہیںروند دینے کے الزام عائدہوگئے ۔ ان کے خلاف قتل کا مدمہ درج ہوا اور وہ گرفتار کرلئے گئے ۔ اس پر بھی بی جے پی کی ریاستی حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوگئیں۔ سب سے زیادہ مشکل اس وجہ سے ہوئیںکیونکہ بی جے پی حکومت نے کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا کو راتوں رات گرفتار کرکے حراست میں رکھا گیا ۔
پرینکا گاندھی نے جس خاموشی کے ساتھ حراست کو برداشت کیا اس کے نتیجہ میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ۔ ان کی امیج ایک بہار اور دلیر خاتون کی بن گئی اور یہ سب کچھ آدتیہ ناتھ حکومت کی غلطیوں کا ہی نتیجہ تھا ۔ کانگریس کے فیصلہ ساز گروپ نے بھی پرینکا کی مقبولیت اتنی نہیں بڑھائی جتنی آدتیہ ناتھ حکومت کی غلطی کی وجہ سے بڑھی ہے ۔ بی جے پی کے اعلی قائدین کو یہ احساس تو ہوگیا ہے کہ اترپردیش میں حالات پارٹی کے حق میں اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے کی امید کی جا رہی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی میںداخلی طور پر ایک بار پھر اترپردیش کی سیاسی حکمت عملی کے تعلق سے غور و خوض شروع ہوگیا ہے ۔ دو دن قبل بھی پارٹی کے ذمہ دار قائدین کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میںلکھیم پور کھیری کے واقعات کے پارٹی کے انتخابی امکانات پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا ۔ اسی طرح آج بھی ایک داخلی اجلاس منعقد ہوا جس میں خود وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی شرکت کی ہے ۔ اس اجلاس میں بھی پارٹی کے انتخابی امکانات کے تعلق سے غور و خوض کیا گیا ہے ۔ بی جے پی نے انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی لکھیم پور کھیری واقعہ کے سلسلہ میںمرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کی حیثیت سے اجئے کمار مشرا کو مستعفی کروانے سے گریز کیا ہوا ہے کیونکہ وہ برہمن ہیں اور بی جے پی کسی بھی قیمت پر برہمن برداری کے ووٹوںسے محروم ہونا نہیںچاہتی ۔ اس کے انتخابی امکانات کو بہتر بنانے کیلئے برہمن برادری کے ووٹوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔
بی جے پی اترپردیش میںاقتدار کسی بھی قیمت پر گنوانا نہیںچاہتی ۔ یہی وجہ ہے کہ ذات پات کے اعداد و شمار پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے اور ووٹوںکے تناسب کی بنیاد پر کام کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ فرقہ واریت کے جنون کو بڑھانے کیلئے بھی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے ۔ نت نئے انداز سے سوشیل میڈیا پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور اشتعال دلانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ اس کیلئے نئے سرے سے مہم شروع کردی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے پاس اپنے کام کاج یا عوامی فلاح و بہبود کے نام پر عوام سے ووٹ مانگنے کا کوئی راستہ نہیںرہ گیا ہے اسی وجہ سے یہ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جو سماجی تانے بانے کیلئے مضر ہے ۔