بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کیلئے ایسا لگتا ہے کہ ترقیاتی دعووں کو درست ثابت کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے اور اس پر دھڑلے سے عمل بھی کیا جا رہا ہے ۔ کسی طرح کی کوئی جھجھک کے بغیر دھڑلے سے جھوٹ بولنا بی جے پی کا وطیرہ بن گیا ہے ۔ ویسے تو ترقی کے دعووں کے تعلق سے بی جے پی مسلسل جھوٹ بولتی رہی ہے ۔ اس نے 2014 کے عام انتخابات سے قبل بھی مہم کے دوران بے دریغ جھوٹ کا استعمال کیا تھا ۔ اس نے سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا جسے بعد میں عوام کے ذہنوں سے محو کرنے کیلئے ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپنا شروع کردیا گیا ۔ دو کروڑ روزگار کی فراہمی تو دور کی بات ہے کہ بی جے پی کی دوسری معیاد کے دو سال میں کروڑہا روزگار ختم کردئے گئے ہیں۔ خانگی شعبہ میں ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں۔ حکومت نے سرکاری ملازمتوں پر عملا غیر معلنہ امتناع عائد کردیا ہے ۔ اسی طرح انتخابی مہم کے دوران ہر شہری کے بینک اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کروانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کو بھی فراموش کردیا گیا اور اسے بعد میں محض ایک انتخابی جملہ قرار دیتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی ۔ کورونا وباء کے عروج میں بھی حکومت سے باضابطہ جھوٹ بولا گیا ۔ کئی طرح کے پیاکیجس کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک ان پر عمل آوری کی تفصیل ملک اور عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ۔ پی ایم کئیرس فنڈ کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس فنڈ میں بھی کتنے عطیات وصول ہوئے اور انہیں کہاںخرچ کیا گیا اس کی بھی کوئی صراحت نہیں کی جا رہی ہے ۔ سابقہ حکومتوں کی جانب سے شروع کردہ پراجیکٹس کو اپنے پراجیکٹس کے طور پر پیش کرتے ہوئے دوبارہ افتتاح کئے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں بھی جھوٹ سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے اور اب تو یہ ہوگئی کہ مغربی بنگال میں ہوئی ترقی کو اترپردیش میں آدتیہ ناتھ حکومت کی ترقی کے طور پر باضابطہ تصاویر کے ساتھ اخباری اشتہارات میںپیش کیا جا رہا ہے ۔ آج اترپردیش میںانگریزی زبان کے ایک اخبار کے صفحہ اول پر ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں آدتیہ ناتھ کی تصویر کے ساتھ مکمل غلط بیانی کی گئی اور جھوٹ کا سہارا لیا گیا
اس اشتہار میں کولکتہ کے فلائی اوور اور اس سے متصل ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تصویر شائع کی گئی اور یہ دعوی کیا گیا کہ یہ اترپردیش میں ہو رہی ترقی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی سوشیل میڈیا ونگ کی جانب سے جھوٹی تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا سلسلہ عام ہوگیا ہے ۔ کئی مواقع پر بی جے پی سوشیل میڈیا ونگ کے دعوے اور تصاویر جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں۔ خود عوام نے سوشیل میڈیا پر ان کی سچائی کو اجاگر کیا ہے لیکن اب باضابطہ حکومت کے اشتہار میں کسی دوسری ریاست کی ترقی سے متعلق تصاویر کو اپنی تصاویر کے طور پر پیش کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک طرح سے اترپردیش کی ڈبل انجن حکومت کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے ۔ بی جے پی ہر ریاست میں انتخابات میں ڈبل انجن سرکار کا راگ الاپتی ہے ۔ اس کا کہنا ہوتا ہے کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہوگی تو ترقی تیز رفتار ہوگی ۔ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی اور مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اس کے باوجود ترقی کے دعوے کے ساتھ پیش کرنے اس کے پاس ایک بھی تصویر موجود نہیں ہے ۔ اسے اپنے دعووں کو عوام میں درست ثابت کرنے کیلئے دوسری ریاستوں کی تصاویر استعمال کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ ریاستی حکومت اور اس حکومت کے سربراہ کی ناکامی کا ثبوت اور شرمناک حرکت ہے ۔ حالانکہ اس کیلئے اخبار کو غلط ٹہرا یا جا رہا ہے اور اخبار نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے لیکن عوام حقیقت سے واقفیت رکھتے ہیں۔
کورونا وائرس کے عروج کے دور میں بھی ایک خاتون کی تصویر اخبار میں شائع کردی گئی تھی اور اس تعلق سے بھی کئی دعوے کئے گئے تھے بعد میں جب سوشیل میڈیا نے اس کی تحقیق کی اور خود اس خاتون سے ملاقات کی تو حکومت کے دعووں کی قلعی کھل گئی تھی ۔ اسی طرح کئی مواقع پر بی جے پی اور اس کے سوشیل میڈیا ونگ کی جانب سے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کا کام کیا گیا تھا ۔ اب حکومتیں بھی ایسا کرنے لگی ہیں۔ ایسا کرنے سے قبل بی جے پی حکومتوں کو اپنی ریاستوں میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی بجائے واقعی ترقیاتی ایجنڈہ پر عمل کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی ہزیمت سے بچا جاسکے ۔
