یو پی میںپرینکا کے تیور

   

Ferty9 Clinic

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اترپردیش میں کانگریس کے مردہ جسم میں دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ پرینکا گاندھی کو گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل اترپردیش کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور ان کا ساتھ دینے ایک اور نوجوان لیڈر جیوتر آدتیہ سندھیا کو بھی ریاست کا کام کاج سونپا گیا تھا لیکن جیوتر آدتیہ سندھیا نے بعد میں کانگریس سے ترک تعلق کرلیا ۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی منتخبہ حکومت کو زوال کا شکار کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کے قیام کی راہ آسان کردی اور خود پہلے راجیہ سبھا کی رکنیت اور پھر مرکزی وزارت حاصل کرلی ۔ اس طرح اترپردیش کے تعلق سے ساری ذمہ داری پرینکا گاندھی پر ہی عائد ہوگئی تھی ۔ پرینکا گاندھی اس ذمہ داری کو نبھانے کی اپنے طور پر پوری کوشش کر رہی ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ وہ کانگریس کے مردہ جسم میں جان ڈالنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔ ریاست میں کانگریس کا سیاسی وجود ختم ہوکر رہ گیا ہے ۔ حالانکہ تنظیمی ڈھانچہ کمزور حالت ہی میں صحیح لیکن موجود ہے لیکن عوامی تائید سے کانگریس پوری طرح سے محروم ہوگئی ہے ۔ تاہم پرینکا گاندھی نے ایسا لگتا ہے کہ دور رس اثرات کے منصوبہ کو اختیار کرتے ہوئے کام شروع کیا تھا ۔ انہوں نے اب تک زمین کے نیچے سرگرمیاں چلائیں۔ اب وہ عوامی سطح پر سرگرمیوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ کھلے عام بی جے پی کی آدتیہ ناتھ حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ہر ضروری موقع پر وہ اترپردیش پہونچ رہی ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس کا کیا کچھ اثر ہو رہا ہے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا لیکن یہ بات ضرو ر ہے کہ ان کی سرگرمیوں کو آدتیہ ناتھ حکومت ضرور محسوس کرنے لگی ہے ۔ پرینکا گاندھی کو کئی اہم مواقع پر روکا جا رہا ہے ۔ حراست میں لیا جا رہا ہے اور باضابطہ گرفتار بھی کیا جا رہا ہے ۔ ان کی نقل و حرکت پر حکومت کی پوری نظر ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی ضرور پرینکا گاندھی کی سرگرمیوں کا اثر محسوس کر رہی ہے اور وہ ابھی سے ان پر روک لگانے کے مختلف منصوبوںپر غور کا بھی آغاز کرچکی ہے ۔
لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد جس طرح سے پرینکا گاندھی نے جارحانہ تیور اختیار کئے ہیں ان سے بھی بی جے پی کی فکر میں اضافہ ہوا ہے ۔ حالانکہ ریاست میں بی جے پی بہت مستحکم ہے اور اس کے انتخابی امکانات پر بھی وہ مطمئن نظر آتی ہے لیکن در پردہ اس کی تشویش اور فکر میںاضافہ ضرور ہو رہا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ پرینکا گاندھی بی جے پی کے فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر کسی طرح کا رد عمل ظاہر کرنے کی بجائے عوامی مسائل کو اٹھانے اور عوام کے درمیان ان کی پریشانیوں پر بات کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس طرح وہ انتخابات کیلئے ایک ایجنڈہ سیٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگر وہ بہار میں تیجسوی یادو کی طرح اترپردیش میں عوامی مسائل کا ایجنڈہ طئے کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ ان کی ابتدائی لیکن بہت اہمیت کی حامل کامیابی ہوگی ۔ وہ فرقہ پرستی کا جواب دینے کی بجائے کسانوں کے قرض معاف کرنے کی بات کر رہی ہیں ‘ نوجوانوںکو سرکاری ملازمتیں دینے کے وعدے کر رہی ہیں۔ کورونا سے معاشی مسائل کا شکار افراد کو معاشی امداد کا تیقن دیا جا رہا ہے ۔ کسانوں کی فصل خریدنے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ یہ طئے ہے کہ کانگریس ایک وقت میں ریاست میں برسر اقتدار نہیں آسکتی لیکن پرینکا گاندھی ایک طرح سے ریاست میں قائم ہونے والی آئندہ حکومت کیلئے بھی ایجنڈہ طئے کر رہی ہیں اور یہی تیور ایسے ہیں جن سے بی جے پی کو شائد فکر و تشویش لاحق ہوگئی ہے اور وہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔
پرینکا گاندھی کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ہی بی جے پی در پردہ سماجوادی پارٹی کے تئیں اپنے رویہ میں نرمی پیدا کرتی بھی نظر آ رہی ہے ۔ جس شدت کے ساتھ اکھیلیش یادو کو نشانہ بنایا جارہا تھا اس میں بی جے پی نے نرمی پیدا کردی ہے ۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے قائدین کسی بھی قیمت پر کانگریس کو موقع دینا نہیںچاہتے کہ وہ ریاست کی سیاست میں کسی بھی قیمت پر اپنے وجود کو منوانے میں کامیاب ہو ۔ بی جے پی کیلئے مابعد انتخابات بھی کانگریس ۔ سماجوادی پارٹی اتحاد سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور اسی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے موقف میں نرمی پیدا کی گئی ہے ۔ سارا کچھ پرینکا کے جارحانہ تیور کا نتیجہ ہے تاہم یہ تیور کتنے فیصد ووٹ حاصل کرسکتے ہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا ۔