اترپردیش پولیس نے آج ایک بار پھر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو حراست میں لیا لیا ہے ۔ پرینکا گاندھی آگرہ میں ایک شخص ارون والمیکی کی پولیس حراست میں موت پر اس کے افراد خاندان سے ملاقات کیلئے جا رہی تھیں۔ لکھنوسے آگرہ ہائی وے پر جیسے ہی وہ پہلے ٹول پلازا پر پہونچیں انہیںحراست میں لے لیا گیا ۔ گذشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں یہ پرینکا گاندھی کی دوسری بار حراست میں ہے ۔ پرینکا گاندھی کسی واقعہ کے متاثرین یا ان کے افراد خاندان سے ملاقات کیلئے جانا چاہتی ہیں تو اترپردیش پولیس انہیں حراست میں لے رہی ہے ۔ انہیں گرفتار بھی کیا جا رہا ہے اور انہیں روکنے کی ہر طرح سے کوشش کی جا رہی ہے ۔ ایک طرح سے اترپردیش کی پولیس پرینکا گاندھی واڈرا سے آنکھ مچولی کھیل رہی ہے ۔ خود پرینکا کا کہنا ہے کہ وہ جب اپنے گھر جانا چاہتی ہیں تو کوئی رکاوٹ نہیںہوتی ۔ وہ پارٹی آفس جانا چاہتی ہیں تو کوئی رکاوٹ نہیںہوتی لیکن جیسے ہی کسی واقعہ کے متاثرین سے ملاقات کیلئے جانا چاہتی ہیں انہیںحراست میں لے لیا جاتا ہے اور گرفتار بھی کیا جاتا ہے ۔ پرینکا گاندھی کے الفاظ میں یہ در اصل اترپردیش حکومت کا خوف ہے کہ انہیںعوام میںجانے سے روکا جا رہا ہے ۔ پرینکا نے خود سوال کیا ہے آخر حکومت کو خوف کس بات کا ہے ؟ ۔ یو پی حکومت ریاست میںقانون کی دھجیاں اڑانے والوں کی مدد کر رہی ہے اور متاثرین سے ملاقات کرنے سے سیاسی قائدین کو روکا جارہا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ قائدین سیاست کر رہے ہیں۔ یہ ہندوستان بھر میں روایت رہی ہے کہ جب کبھی کسی فرد یا خاندان کے ساتھ ظلم ہوتا ہے یا کوئی اورواقعہ ہوجاتا ہے تو خود حکومتی نمائندے اور اپوزیشن کے قائدین اظہار یگانگت کیلئے ان کے گھروںکو جاتے ہیں۔ لیکن آدتیہ ناتھ کی حکومت اترپردیش میں ایسا کرنے سے روک رہی ہے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ متاثرین کے گھروں کو خود حکومت کے نمائندے بھی نہیں جاتے اور اپوزیشن کو بھی ایساکرنے سے روکا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومت انہیںدبانا چاہتی ہے ۔
ایک بات بظاہر درست دکھائی دے رہی ہے کہ اترپردیش حکومت پرینکا گاندھی سے خوفزدہ ہونے لگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد پرینکا گاندھی وہاں جانے کیلئے روانہ ہوئیں تو انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔ انہیں کئی گھنٹے حراست میں رکھا گیا پھر گرفتار کرلیا گیا ۔ اس گرفتاری نے سیاسی اعتبار سے پرینکا گاندھی کو ہی فائدہ دیا ہے ۔ کانگریس کی سوشیل میڈیا ٹیم پرینکا کی مقبولیت میں اتنی اضافہ نہیں کرپائی جتنی اترپردیش پولیس کی گرفتاری نے پرینکا گاندھی کو راتوں رات ایک دلیر اور بہادر خاتون کی امیج بنانے میں مدد کی ہے ۔ اس کے بعد سے پرینکا گاندھی کی سرگرمیوں میںاضافہ ہوگیا تھا ۔ وہ زیادہ عوام میںدکھائی دینے لگی تھیں اور میڈیا نے بھی ان پر توجہ دینی شروع کردی تھی ۔ اب ایک بار پھر پرینکا گاندھی کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں آگرہ جانے سے روک دیا گیا ہے ۔ اس طرح سے اترپردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت اور اس کی پولیس سیاسی قائدین کی نقل و حرکت کی آزادی پر روک لگا رہی ہے ۔ انہیںمتاثرین سے ملنے سے روکا جا رہا ہے ۔ یو پی پولیس کی ایسی کارروائیاںخود آدتیہ ناتھ حکومت کی مقبولیت کو متاثر کرنے کی سبب بن رہی ہیں۔ ایسا کرنے سے پرینکا گاندھی واڈرا کی مقبولیت میںاضافہ ہونے لگا ہے اور وہ ایک دلیر لیڈر کے طور پر اپنی شبیہہ بنانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ اس سے کانگریس کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ یو پی کی آدتیہ ناتھ حکومت اس صورتحال کو سمجھنے میںیکسر ناکام ہی نظر آتی ہے ۔
جس طرح پرینکا گاندھی واڈرا عوامی اور میڈیا توجہ کے حامل کام کرتے ہوئے سرخیوں میں آ رہی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ کو جاری رکھا جائے ۔ عوام میں پارٹی کی امیج کو بہتر بنانے کیلئے اور عوام کو پارٹی سے باضابطہ جوڑنے کیلئے حکمت عملی بنائی جائے ۔ نچلی سطح پر کارکنوں اورکیڈر کا جال مستحکم کیا جائے تاکہ عوامی تائید کو ووٹوں میں تبدیل کیا جاسکے ۔ یہ حقیقت ہے کہ کانگریس ایک کوشش میں یو پی میں اپنا کھویا ہوا وقار بحال نہیں کر پائے گی لیکن مسلسل اور بے تکان جدوجہد کے ساتھ اپنے امکانات کو بحال ضرور کرسکتی ہے اور اترپردیش کی سیاست میںاپنے وجود کا احساس دلاسکے تو یہی پارٹی کی بڑی کامیابی ہوسکتی ہے ۔
