میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یو پی ‘ کانگریس کا تنہا مقابلہ
کانگریس کی جنرل سکریٹری برائے اترپردیش پرینکا گاندھی واڈرا نے اعلان کردیا ہے کہ ان کی پارٹی اترپردیش میں کسی بھی جماعت سے اتحاد نہیں کرے گی اور تنہا مقابلہ کرے گی۔ در اصل پرینکا گاندھی واڈرا کی بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی اور یہ قیاس آرائیاں شروع ہو رہی تھیں کہ کانگریس ۔ بی ایس پی میںاتحاد ہوسکتا ہے تاہم ان قیاس آرائیوںکو زیادہ مستحکم ہونے سے قبل ہی پرینکا گاندھی واڈرا نے ختم کردیا اور یہ اعلان کردیا کہ ان کی پارٹی ریاست کی تمام نشستوں پر تنہا مقابلہ کرے گی ۔ کانگریس کا یہ اعلان در اصل ایک حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ عوام کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ کانگریس پارٹی بھی ریاست میں تمام نشستوں پر مقابلہ کرنے کا دم خم رکھتی ہے ۔ حقیقت حال سے سبھی واقف ہیں کہ کانگریس کیلئے ریاست میں اپنا احیاء عمل میں لانا اور اترپردیش کی سیاست میں کوئی اہم موقف حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے ۔ پرینکا گاندھی واڈرا مسلسل کوشش کر رہی ہیں کہ ریاست میں پارٹی کو مستحکم کیا جاسکے ۔ اترپردیش کے رائے دہندوں کا اعتماد حاصل کیا جاسکے ۔ انہیں دوبارہ پارٹی سے قریب کیا جاسکے اور ان کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔ حالانکہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے اور نہ ہی چند مہینوں میںکیا جاسکتا ہے ۔ اترپردیش کا ماحول بی جے پی کی منفی سیاست کی وجہ سے پراگندہ کردیا گیا ہے ۔ عوام کے ذہنوں کو فرقہ پرستی کے زہر سے بھر دیا گیا ہے ۔سماج کے مختلف طبقات کے مابین منافرت کو ہوا دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اقتدار کا اپنا بھی اثر ہوتا ہے اور کانگریس پارٹی ایک طویل عرصہ سے اقتدار سے باہر ہے اور وہ کسی اور جماعت کے ساتھ بھی اقتدار کا حصہ نہیں رہی ہے ۔ ایسے میںریاست بھر میں مقابلہ کرنا اور پھر کامیابی حاصل کرنا تقریبا نا ممکن کہا جاسکتا ہے ۔ تاہم ریاست کے ووٹرس کو ایک پیام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کانگریس اب ریاست میں کام چلاؤ انداز اختیار نہیں کرے گی اور کسی اور پارٹی کا سہارا بننے کی بجائے اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔ یہ پیام دیتے ہوئے عوام کی توجہ بھی حاصل کرنے کی ایک طرح سے کوشش کی گئی ہے ۔
کانگریس کیلئے کسی بھی جماعت سے اتحاد کا تجربہ اترپردیش میں ٹھیک بھی نہیں رہا ہے ۔ خود کانگریس کو اور اس کی حلیف جماعتوں کو بھی اس طرح کے اتحاد سے نقصان ہوا ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں راہول گاندھی ۔ اکھیلیش یادو کی جوڑی رائے دہندوں پر اثر انداز نہیںہوسکی اور بی جے پی کو بہت بڑی کامیابی ملی تھی ۔ مایاوتی کے ساتھ بھی کانگریس کا تجربہ اچھا نہیں رہا اور اب اترپردیش میںخود مایاوتی کی مقبولیت اور ان پارٹی کی اہمیت میںکمی آئی ہے ۔ ایسے میں اگر کانگریس ریاست میں اپنے سیاسی عزائم کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی طاقت اور مقبولیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ پرینکا گاندھی اسی کوشش میںجٹی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اہم اور صحیح موقع پر عوام کے درمیان پہونچتے ہوئے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک پیام دیا ہے ۔ وہ پارٹ ٹائم سیاست دان کی امیج کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور ان کے بعض اقدامات پر بی جے پی کی بوکھلاہٹ نے انہیں زیادہ فائدہ پہونچایا ہے اور ایک بہادر اور دلیر خاتون کی امیج بننے لگی ہے ۔ وہ جس طرح سے یو پی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں اورچیف منسٹر پر راست تنقیدیں کر رہی ہیں اس کی وجہ سے بھی ان کی امیج مستحکم ہوئی ہے ۔ تاہم یہ ابھی اس مقام تک نہیں پہونچی ہے کہ پرینکا گاندھی تن تنہا جدوجہد کرتے ہوئے ایک ہی بار کی کوشش میں پارٹی کو اترپردیش جیسی اہمیت کی حامل ریاست کی سیاست میں مرکزی مقام دلاسکیں۔
ضروری ہے کہ اترپردیش میں کانگریس پارٹی مخصوص حلقوں اور علاقوں پر توجہ مرکوز کرے اور ان پر زیادہ طاقت صرف کی جائے ۔ انتخابات سے قبل کسی بھی جماعت سے اتحاد نہ کرنے کے باوجود در پردہ کچھ جماعتوں سے مقامی اور علاقائی سطح پر تعاون کے امکان کو بھی برقرار رکھا جانا چاہئے تاکہ اہمیت کے حامل مقامات پر اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے نہ پائیں۔ انتخابات کے بعد اگر کانگریس کے حق میں کوئی کرشمہ ہوتا ہے اور اگر کسی حکومت کے قیام کیلئے اس کی تائید لازمی بن جائے تب بھی کانگریس کیلئے مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں تاہم اس موقع کیلئے بھی پارٹی کو متحدہ طور پر اور بے تکان جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔
