وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
اترپردیش کے انتخابات سارے ملک کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ہر سیاسی جماعت اسے اپنے سیاسی مستقبل کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ جہاں بی جے پی اپنا اقتدار بچانے کیلئے کوشاں ہیں تو وہیںسماجوادی پارٹی اقتدار پر واپسی کیلئے ہر ممکن جدوجہد میں جٹ گئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کسی سے اتحاد کئے بغیر اپنے سیاسی وجود کا احساس دلانے اور اپنے بل پر پارٹی کے احیاء کی کوششوںمیںمصروف ہوگئی ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کا فی الحال کوئی سیاسی تذکرہ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ انتخابات کا موسم جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے فرقہ پرستانہ ریمارکس کا سلسلہ سا شروع ہوچکا ہے ۔ ماحول کو کشیدہ کرنے کی منظم کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہر گوشے سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز ہوگیا ہے ۔حہاں چیف منسٹر آدتیہ ناتھ پہلے ہی سے کٹر پسندی کا چہرہ بن گئے ہیں وہیں اب ان کے ڈپٹی کیشو پرساد موریا بھی کسی سے پیچھے رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیشو پرساد موریا گذشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد امکانی چیف منسٹروں کی دوڑ میں شامل تھے ۔ شائد وہ اس بار بھی خود کو آگے کرنا چاہتے ہیںاسی لئے انہوں نے اب خود کو ایک کٹر پسند چہرہ کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔ وہ شائد بی جے پی میں اپنے نمبر بڑھانا چاہتے ہیں لیکن ان کے ریمارکس سے سماج میں افرا تفری پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس کو وہ خاطر میںلانے کو تیار نہیں ہیں۔ کیشو پرساد موریا اب مسلسل اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش میں رام مندر کا مسئلہ سیاسی اعتبار سے ختم ہوگیا ہے اب متھورا کا مسئلہ اٹھانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ان کوششوں کے پس پردہ محرک بھی کیشو پرساد موریا ہی نظر آتے ہیں۔ انہوںنے ہی اس تعلق سے بیان بازیوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا اور متھورا کی شاہی عیدگاہ مسجد میں پوجا کرنے کے اعلانات سامنے آگے لگے تھے ۔ کیشو پرساد موریا کا ہی یہ اصرار ہے کہ مسلمان متھورا کی مسجد بھی ہندووں کے حوالے کردیں۔ یہ ساری مذہبی شدت پسندی در اصل سیاسی مقصد براری کیلئے ہے اور اپنے سیاسی قد کو پارٹی میں بڑھاوا دینے کیلئے وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثرکرنے پر اتر آئے ہیں۔ ویسے بھی یہی وطیرہ بی جے پی کے بیشتر قائدین کا رہا ہے ۔
خود کو کٹر ہندوتوا کے چہرہ کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میںکیشو پرساد موریا کے بیانات بہت زیادہ اشتعال انگیز ہو تے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جہاں مسلمانوں سے متھورا کی مسجد حوالے کردینے کا مطالبہ کیا وہیں انہوںنے مسلمانوں کی ٹوپی کے تعلق سے ریمارک کئے تھے ۔ جس طرح کچھ عرصہ قبل وزیراعظم نریندرمودی نے کپڑوںسے فسادیوں کو پہچاننے کا ریمارک کیا تھا اسی طرح کیشو پرساد موریا نے اب ریمارک کیا ہے کہ غنڈہ عناصر لنگی اور جالی دار ٹوپی پہنتے ہیں۔ یہ در اصل اترپردیش کیسیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے اورسماج میںنفرت پیدا کرتے ہوئے ووٹ بٹورنے کی کوشش ہے ۔ خود کو کٹر ہندوتوا چہرہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کو بھی مزید مستحکم کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ سب کچھ اقتدار کے حصول اور بڑی کرسی کی خاطر کیا جا رہا ہے ۔ ان کے بیانات سے سماج کے تانے بانے متاثر ہو رہے ہیں۔ پہلے ہی سے پراگندہ ماحول مزید کشیدہ ہوتا جا رہا ہے ۔ سماج کے دو بڑے اور اہم طبقات کے درمیان نفرت میں کمی ہونے کی بجائے اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حکومت کے ذمہ داروںکو جس طرح سے سماج سے نفرتوںکو ختم کرنا چاہئے اور بھائی چارہ کوفروغ دینا چاہئے اس کے یکسر مغائر کام کیا جا رہا ہے ۔ اپنے سیاسی فائدہ کیلئے اور ووٹ حاصل کرنے کیلے مذہبی شدت پسندی اور منافرت کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔
یہ حکمت عملی در اصل منفی سیاست کا نتیجہ ہے ۔ بی جے پی یا اس کے قائدین کے پاس عوام کے پاس پیش کرنے کیلئے کوئی مثبت ایجنڈہ موجود نہیںہے ۔ کوئی کارنامے نہیں ہیں جو عوام کے درمیان پہونچ کر گنائے جاسکیں۔ ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے جس کے ذریعہ عوام سے مستقبل کیلئے ووٹ مانگا جائے ۔ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کا کوئی اور طریقہ کار پارٹی اور اس کے قائدین کے پاس نہیں ہے جس کی وجہ سے منفی سیاست کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ کیشو پرساد موریا کو یہ سبھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی موجودگی میں کوئی چیف منسٹر کی کرسی تک پہونچ نہیںسکتا ۔ اس لئے انہیں منفی سیاست ترک کرتے ہوئے ریاست کے امن و امان کو متاثر کرنے کی کوششوں سے گریز کرنا چاہئے ۔
