یو پی کی ترقی کیلئے معاشی تعمیر نو وقت کی ضرورت:پرینکا

,

   

Ferty9 Clinic

لکھنو ،17اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اترپریش میں مزدوروں اور چھوٹی انڈسٹریوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعہ کوکہا کہ ریاست میں معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے منصوبہ بندی و معاشی ماہرین پر مشتمل’اکانومک ری کنسٹرکشن ٹاسک فورس’تشکیل دیا جانا چاہئے ۔اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے نام لکھے گئے اپنے خط میں پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ گیہوں کی فصل کی کٹائی کا وقت چل رہا ہے ۔ کسان بری طرح سے پریشان ہیں کہ کٹائی کیسے ہوگی۔ریاست میں کمبائن سے کٹائی کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن ابھی تک کمبائی مشینوں کے مالک انتظامیہ سے ڈرے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر ان مشینوں کے ڈرائیور دوسری ریاستوں سے آتے ہیں۔ان کے آنے کا نظم کیا جانا چاہئے۔ صحیح معلومات کی کمی اور خوف کی وجہ سے کسان راتوں میں گیہوں کی کٹائی کررہے ہیں۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ کسانوں کے گنا بقایا جات کی فورا ادائیگی کے ساتھ ہی ساتھ آنے والی فصل کی خریداری کی گارنٹی دی جانی چاہئے ۔اپنے خط میں ژالہ باری اور بے موسم بارش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کو معاوضۃ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک کسانون کو معاوضہ نہیں ملا ہے ۔انہوں نے ایسے سبھی کسانوں کو فوری معاوضہ فراہم کرنے کی درخواست کی جن کی فصل ژالہ باری اور بے موسم بارش میں تباہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک بہت مزدور کنبوں کو راشن و نقدی کی قلت کا سامنا ہے ۔کافی مزدوروں کا رجسٹریش نہ ہونے سے ان کو کسی بھی راحت اسکیم کا فائدہ نہیں مل رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ بغیر رجسٹرڈ مزدوروں کوبھی مالی مدد کی گارنٹی دی جائے ۔پرینکا نے اپنے لکھے خط میں دعوی کیا ہے کہ کئی جگہوں سے راشن نہ ملنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں اور بغیر راشن کارڈ ہولڈروں کو بھی راشن دینے کی گارنٹی دی جائے اور راشن میں چاول کے ستھ گیہوں، دال، تیل، نمک اور مسالہ پاوڈر بھی شامل ہو۔ پرینکا نے یہ بھی لکھا کہ کام کرنے والے منریگا مزدوروں کو فری میں راشن مل رہا ہے ۔ یہ قابل تعریف پہل ہے لیکن ان کو کئی مالی مدد نہیں ملی ہے ۔