یکساں سیول کوڈ بل

   


راجستھان سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا کروڑی لال مینا نے ایوان میں یکساں سیول کوڈ بل 2020 پیش کیا ۔ یہ در اصل خانگی رکن بل ہے جسے ایوان میں پیش کرتے ہوئے ایوان کی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس بل کو پیش کرنے سے روکنے کی بھی ایوان میں کوشش ہوئی لیکن اسے ندائی ووٹ سے ناکام بنادیا گیا ۔ اس کے بعد صدر نشین راجیہ سبھا جگدیپ دھنکر نے اس بل کوا یوان میں پیش کرنے کی اجازت دیدی ۔ یہ در اصل بی جے پی کی جانب سے ایوان میں خانگی رکن بل پیش کرواتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کی سمت ایک پیشرفت ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اس کے ذریعہ بی جے پی عوام اور سیاسی حلقوں کے موڈ کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یکساں سیول کوڈ ہمیشہ ہی ایک نزاعی مسئلہ رہا ہے ۔ سکیولرازم کی مخالفت کرنے والے گوشوں کی جانب سے ایک طویل عرصہ سے کوشش ہوتی رہی ہے کہ یکساں سیول کوڈ کو موضوع بحث بنایا جائے ۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر کام کرنے والے پرسنل لا کو ختم کیا جائے ۔ اس کیلئے وقفہ وقفہ سے کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپنے انتخابی منشور میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی بات کہی تھی ۔ تاہم دوسری معیاد کی تکمیل کا وقت بھی قریب آ پہونچا ہے لیکن ابھی تک اس میں بی جے پی نے کوئی پیشرفت نہیں کی ۔ وہ اس مسئلہ سے بھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور اب بھی وہی کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کیلئے واقعی یکساں سیول کوڈ نافذ کرنا ہوتا تو اس کی کوشش بہت پہلے شروع ہوچکی ہوتی ۔ بی جے پی اگر اس پر عمل بھی کرنا چاہے تو وہ اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ ہی حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک بار پھر اسے عوامی تائید اختلافی اور نزاعی مسائل پر حاصل ہوجائے ۔ وہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات اور پروگراموں کے نام پر عوام سے رجوع ہونے سے ہمیشہ سے گریز کرتی رہی ہے ۔ اس نے انتخابات میں ہمیشہ ہی اختلافی اور نزاعی مسائل کو ہوا دینے کی روش اختیار کی ہے ۔ اس کی یہ روش اب تک پارٹی کیلئے ثمر آور بھی ثابت ہوئی ہے ۔
یکساں سیول کوڈ ایک انتہائی حساس اور اہمیت کا حامل موضوع ہے ۔ اس کا خیال ہی ملک کے سکیولر ڈھانچہ کے مغائر قرار دیا جاتا ہے ۔ یکساں سیول کوڈ کسی ایک مخصوص طبقہ یا حلقہ پر اثر انداز نہیں ہوگا بلکہ وہ ملک کے ہر شہری پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ سارے ملک میں اس کے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔اس قدر اہمیت کے حامل اور حساس مسئلہ پر بی جے پی کو سیاست کرنے کی بجائے ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی سمت لیجانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس طرح کے خانگی ممبر بل کو ایوان پیش کرنے یا کروانے سے قبل اس پر ملک بھر میں مباحث کروائے جانے چاہئے تھے ۔ اس پر عوام کی رائے حاصل کی جانی چاہئے تھی ۔ عوام کی رائے پہلے ہی اس مسئلہ پر منقسم ہے ۔ اس انتہائی حساس نوعیت کے مسئلہ پر ملک میںایک رائے بننی مشکل ہی نظر آتی ہے ۔ ایسے میں خانگی ممبر بل ایوان میں پیش کرواتے ہوئے ملک کے ماحول کو مزید پراگندہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے تھا لیکن ملک کے ماحول یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی امید تو انتخابی اور سیاسی فائدہ کے آگے بے کار ہی نظر آتی ہے ۔ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ انتخابی کامیابی اور سیاسی فائدہ کیلئے بی جے پی کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ اس کیلئے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اتنی کوئی خاص اہمیت نہیںرہ گئی ہے ۔ اس کے سامنے ایک ہی مقصد و منشا ہے کہ کسی طرح سے ملک میں انتخابی فائدہ حاصل کیا جاسکے اور سیاسی استحکام حاصل کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کی آواز کو دبایا جائے اور اپنی بالادستی کو برقرار رکھا جائے ۔
یکساں سیول کوڈ جیسے حساس موضوع پر کسی کو بھی سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ یہ مسئلہ کسی ایک رکن کی خواہش پر یا کوشش پر سارے ملک کیلئے موضوع بحث نہیں بننا چاہئے ۔ کسی بھی گوشے کو یہ اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرے ۔ جہاں تک حکومت کا سوال ہے وہ اس پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے شائد حالات کا جائزہ لینا چاہتی ہے ۔ تاہم بی جے پی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے ارکان کو ایسی کوششوں سے باز رکھے اور حساس مسائل پر سیاست یا کسی لا حاصل مباحث شروع کرنے کا موقع نہ دے ۔ اس سے ملک میں بے چینی کا اندیشہ ہوسکتا ہے ۔