این ڈی اے کی 3 اتحادی جماعتوں جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور لوک جن شکتی پارٹی کااختلاف
یو سی سی کی تجویز پر مباحث اور فریقین کے مفادات پر غور کے بعد فیصلہ کی ضرورت پر زور
نئی دہلی ۔15؍ستمبر ( ایجنسیز )مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے یکساں سول کوڈ کے نفاذ والے بیان نے بی جے پی کی مصیبتوں اور پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تقریب کے دوران امیت شاہ نے اعلان کیا تھا کہ لوک سبھا انتخابات 2029 سے قبل 21 ریاستوں میں یو سی سی نافذ کر دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث و مباحثے کا دور جاری ہے۔ خصوصاً این ڈی اے کے اندر ہی شش و پنج کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی سب سے اہم 3 اتحادی جماعتوں نے اپنا واضح موقف سامنے رکھا ہے۔ جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے اس حساس مسئلے پر کافی غور و فکر اور احتیاط کے ساتھ اپنی رائے رکھی ہے۔اس معاملے پر تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کا کہنا ہے کہ فی الحال اس مسئلے پر بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ جب ضرورت محسوس ہوگی تب سوچیں گے۔ نفاذ سے قبل مختلف فریقین سے ضرور بات کی جائے گی۔ دوسری طرف جے ڈی یو لیڈر شیام رجک نے کہا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ میں آیا تھا تو ہمارے لیڈر (نتیش کمار) نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بل کی حمایت تو کرتے ہیں، لیکن اسے اپنی ریاست میں نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ ہم آج بھی اپنی اسی بات پر قائم ہیں۔ جے ڈی یو کے کارگزار صدر سنجے جھا نے بتایا ہے کہ وہ اس مسئلے پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کر کے اس مسئلے پر گفتگو کریں گے۔لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان کا بھی اپنا موقف ہے۔ انہوں نے احتیاط کے ساتھ کہا ہے کہ ان کی پارٹی یکسانیت اور تنوع کی حمایت میں ہے۔ آئین نے الگ الگ معاشرے کی روایات اور رسم و رواج کو منظوری دی ہے۔ درج فہرست قبائل کو آئین کے مختلف شیڈولز اور آرٹیکلز کے تحت رعایت دی گئی ہے جو اس کا ثبوت ہے۔ چراغ پاسوان نے یہ بھی کہا کہ یو سی سی کی تجویز کو پہلے پبلک ہونا چاہئے، سبھی متعلقہ فریقین کے مفادات پر غور و فکر کیا جانا چاہئے اور تفصیلی بحث ہونی چاہئے۔ اس کے بعد ہی ان کی پارٹی اپنا موقف صاف کرے گی۔ واضح رہے کہ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی ہمیشہ سے ہی آزادانہ رخ اختیار کرنے کی تاریخ رہی ہے۔ 2014 سے دونوں پارٹیاں بی جے پی کے مختلف معاملات پر مختلف نظریہ پیش کرتی رہی ہیں۔ اس دوران وہ کبھی این ڈی اے کا حصہ رہی تو کبھی باہر ہوگئی۔ اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود بھی جے ڈی یو کے اراکین پارلیمنٹ نے 2019 میں 370 ہٹائے جانے کے بل کی حمایت نہیں کی تھی اور اراکین پارلیمنٹ باہر چلے گئے تھے۔ وزیر اعظم مودی کی تیسری مدت میں دونوں پارٹیاں بی جے پی کے کافی قریب نظر آرہی ہیں، لیکن اب یکساں سیول کوڈ پر مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بی جے پی حکومت 4 ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ قانون لاچکی ہے۔
اتراکھنڈ میں جنوری 2025 سے یو سی سی نافذ ہو چکا ہے جبکہ گجرات، آسام، مدھیہ پردیش میں یو سی سی کے نفاذ کی تجویز اسمبلی میں پاس ہوچکی ہے۔ صدر جمہوریہ کی منظوری کے بعد ان ریاستوں میں بھی نافذ ہو جائے گا۔ وہیں مہاراشٹرا، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ نے یو سی سی قانون تیار کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جبکہ راجستھان میں کابینہ نے ڈرافٹ بل پاس کر دیا ہے۔